اصلاح معاشرہ کمیٹی

آغاز 

جامعہ قرطبہ نے اپنا  تعلیمی سفر جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ  اس بات کی شدید خواہش رکھی کہ جامعہ قرطبہ فقط ایک تعلیمی ادارے تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے اثرات زیادہ سے زیادہ معاشرے پر مرتب ہوسکیں اور  جامعہ میں دی جانے والی تعلیم کی عملی شکل معاشرے میں دکھائے دے سکے،تاکہ ایک ایسے صالح معاشرے کا قیام عمل میں لایا جاسکے جس کی ساکھ اسلامی تعلیمات پر مشتمل ہو۔

    اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے  19 اگست 2003 ء کو ایک اجلاس ہوا  جس میں "متحدہ ایکشن کمیٹی ” کے نام سے ایک کمیٹی بنائی گئی۔ جس کا پس منظر یہ  ہے کہ اس دوران علاقے کے حالات بہت زیادہ بگاڑ کا شکار تھے، علاقہ تقریباً بنیادی ضروریات کے لیے پریشان تھا ،جس میں سڑکوں کی خرابی ،سیوریج  نظام کی بد حالی ،منکرات کی کثرت،نشہ آور اشیاء کا استعمال اور دیگر بہت سے ایسے مسائل جس کی وجہ سے علاقہ مکین پریشانیوں میں گرے ہوئے تھے،جس کے بعد علاقے کے سرکردہ عوام اور علمائے کرام نے اس بات کا  ارادہ کرلیا کہ ایک کمیٹی بنائی جائے اور ان مسائل کو اس کمیٹی کی شکل میں آگے رکھا جائے ، جس کے بعد کمیٹی کی تشکیل ہوئی اور اس میں شیریں جناح کالونی ،سکندر آباد اور کیماڑی کے ان تمام سرکردہ لوگوں کو شامل کیا گیا جو اپنے علاقے کی ترجمانی کا حق ادا کر سکتے تھے جن میں بزرگ حضرات،مختلف عہدیداران اور علمائے کرام شامل تھے۔

پس منظر

اس کمیٹی نے  ایک وفد کی صورت میں اس وقت کے  سٹی ناظم نعمت اللہ خان صاحب سے ملاقات کی اور اپنے ہاں  پائے جانے والے مسائل پر تفصیلی گزارشات پیش کیں ،جس کے بعد الحمدللہ علاقے کا نظام تقریباً بہتر ہوگیا ، اس طرح کمیٹی باقاعدہ اپنے کام میں لگ گئی اور یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ   2010ء میں کمیٹی "الاصلا ح ویلفیئر ٹرسٹ ” کے نام سے رجسٹرڈ ہوئی اور باقاعدہ ممبر سازی کا اہتمام کیا گیا۔جبکہ کمیٹی کے اراکین میں کسی قسم کی تفریق نہیں رکھی گئی ،جس کی وجہ سے تمام اقوام ،مذاہب اور مسالک کے لوگ اس میں شریک ہیں جن میں  مسلمان ،ہندو،عیسائی،دیوبندی،بریلوی ، اہل حدیث اور تمام برادریوں کے افراد شامل ہیں ،اس وقت کمیٹی کے 120 ممبز ہیں ،کمیٹی کی شوریٰ سب کی رائے کا اہتمام کرتی ہے اور کسی بھی ایسے فیصلے سے گریز کرتی ہے جو ان میں سے کسی کی تفریق کا سبب بنے ۔

بنیادی خاکہ

دستور  اصلاح معاشرہ کمیٹی

1۔”اصلاح معاشرہ کمیٹی” کا کسی قومی،سیاسی ومسلکی گروہ سے تعلق نہیں ہوگا ۔

2۔یہ علاقائی سطح کی کمیٹی ہے اور علاقے کا ہر فرد ممبر بننے کا حق رکھتا ہے۔

3۔ہر علاقے سے سنجیدہ اور ذمہ دار افراد  کمیٹی کی مجلس شوریٰ کا حصہ بن سکیں گے اور یہی افراد کمیٹی کے سامنے اپنے علاقائی مسائل پیش کریں گے۔

4۔حل طلب امور کمیٹی کے سامنے "تحریری” طور پر پیش کیےجائیں گے اور شوریٰ ان پر اتفاق رائے سے فیصلہ کرے گی۔

5۔شخصی مفاد اور ذاتی استعمال کے لیے کمیٹی یا اس کے نام کے استعمال  کی ممانعت ہوگی۔

6۔ہر ماہ کی 5 تاریخ کو شوریٰ کا اجلاس ہوگا  اور موقع بموقع مختلف مسائل اجتماعات کا انعقاد ہوگا تاکہ کمیٹی کی کارگزاری سامنے لائی جاسکے۔ البتہ ہنگامی صورت حال میں کسی بھی وقت شوریٰ کا اجلاس                                  بلایا جاسکتا ہے ۔

7۔علاقائی مسائل کے حل کے لیے شوریٰ مناسب افراد کی تشکیل کرے گی ۔

8۔شوریٰ ہر معاملے میں بھرپور تحقیق اور مشاورت سے کام لے گی ۔

9۔اصول کی خلاف ورزی کی صورت میں شوریٰ کو کسی ممبر کی  منسوخی اور اس کی جگہ دوسرے کو رکھنے کا حق حاصل ہوگا۔

10۔مشورے میں شامل نہ ہونے کی صور میں اطلاع دینا لازمی ہوگا ،ورنہ رنیت منسوخ کی جاسکتی ہے ۔

اغراض و مقاصد اصلاح معاشرہ کمیٹی

1۔اصلاح معاشرہ کمیٹی خالص ایک فلاحی فورم ہے ،اس کا کسی خاص گروہ سے کوئی تعلق نہیں ۔

2۔کمیٹی علاقے کی فلاح و بہبود سے متعلق سرکاری و غیر سرکاری تمام معاملات میں علاقے کی نمائندگی کرے گی ۔

3۔علاقے میں امن و امان اور  ایک مہذب ماحول بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی ۔

4۔تمام طبقات میں امن و امان ،جوڑ و تعلق  اور رواداری بر قرار رکھنے نیز اختلافات اور رنجشوں کے ازالے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی ۔

5۔کمیٹی خوشی  ،غمی کا ایسا ضابطہ طے کرے گی جس سے کسی  کی خوشی ،غمی دوسروں کے لیے ایذاء اور تکلیف کا سبب نہ بنے ۔

6۔علاقائی ماحول کو خراب کر نے والوں کو    پیار محبت سے سمجھانے کے بعد ہٹ درمی کی صورت میں قانونی  کاروائی کی جائے گی ۔

7۔الحاد،ارتداد،بےدینی اور تحریف دین مثلاً    انکار حدیث اور ختم نبوت جیسے مسائل کے حل کے لیے زبانی اور تحریری جدوجہد کرنا ۔

8۔مسلمانوں کو مختلف مسلکی طبقات کے اختلافات کو معتدل بنا کر سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ۔

9۔فحاشی،منکرات اور تحریف و الحاد کے خلاف یکجا ہوکر کام کرنا ۔

10۔پیش آمدہ مسائل میں انفرادی  فتویٰ کی بجائے ارباب فتویٰ کی مشاورت اور اتفاق سے  فیصلے کرنا ۔

حلف نامہ اصلاح معاشرہ کمیٹی 

چونکہ اصلاح معاشرہ کمیٹی میں ممبر سازی کا عمل بھی جاری رہتا ہے ،لہذا جو اس کا ممبر بننا چاہتے ہیں ان کے لیے درج ذیل حلف نامہ تیار کیا گیا ہے جس کی پاسداری ممبر کے لیے لازمی ہے۔

میں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر سمجھ کر اس بات کا حلفیہ اقرار کرتا ہوں کہ :

1۔اصلاح معاشرہ کمیٹی کے اغراض و مقاصد سے مکمل اتفاق  رکھتا ہوں اور ان کی مخالفت نہیں کروں گا۔

2۔اصلاح معاشرہ کمیٹی کو اپنے ذاتی اور سیاسی مفاد کے لیے استعمال نہیں کروں گا۔

3۔کمیٹی  کی مجلس شوریٰ جو طے کرے اس سے اتفاق کرتے ہوئے اپنی رائے ترک کردوں گا ۔

4۔کمیٹی کے اجلاسوں میں کسی بھی قسم کی بد اخلاقی و بد نظمی سے پرہیز کروں گا ۔

5۔کمیٹی کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لیے ہر قسم کی جانی مالی قربانی پیش کروں گا۔

6۔اصلاح معاشرہ کمیٹی کی مجلس شوریٰ کے مشورے کے بغیر  انتظامیہ کے ساتھ کمیٹی کے حوالے سے کسی قسم کی ملاقات اور رابطے سے گریز کروں گا ۔

اصلاح معاشرہ کمیٹی کا طریقہ کار

1۔گروہی  مسائل کو معتدل کرنے کی جدوجہد ،تاکہ ان مباحث کو علمی مجالس تک محدود رکھا جائے اور اس کے لیے عوامی ذرائع ابلاغ کو استعمال نہیں کیا جائے ۔

2۔منکرات پر نکیر کرنے کی صورت میں طنز و تشنیع سے گریز۔

3۔حکمت ،موعظت اور مشاورت کے اصول پر عمل پیرا ہو کر کام کرنا ۔

4۔ایک اساسی مجلس شوریٰ کا  قیام جو تمام ٖ فیصلوں پر نظر رکھے گی ۔

5۔سابقہ امور کا  جائزہ اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کی لیے مختلف مقامات پر اجتماعات منعقد کیے جائیں گے ۔

6۔خطبات جمعہ و عیدین  کے ذریعے عوام الناس کی بھرپور رہنمائی کی جائے گی ۔

7۔عوام  الناس کی اصلاح کے لیے مختلف مواقع میں اصلاحی مجالس کا اہتمام کیا جائے گا۔

8۔مختلف فتنوں  اور منکرات کے روک تھام کے لیے میڈیا کا مثبت استعمال کیا جائے گا ۔

9۔مختلف مسائل کے حل کے لیے علماء و مفتیان کرام، ارباب سیاست اور دیگر انتظامیہ سے رابطے میں رہنا

 پیش رفت 

الحمد اصلاح معاشرہ کمیٹی نے  اب تک بہت سے معاشرتی مسائل پر قابو پا لیا ہے   اور مزید اصلاحات کے لیے پر عزم ہے ،کمیٹی کی مجالس اور مجلس شوریٰ کا اجتماع "جامعہ قرطبہ” میں ہی ہوتا ہے اور  جامعہ قرطبہ اصلاح معاشرہ کمیٹی کا مرکز بھی ہے ۔

1۔ علاقائی سطح پر مختلف تعمیراتی امور  کی انجام دہی

2۔غمی ،خوشی کے مواقع کو سادگی اور حدود میں رہ کر   انجام دینا 

3۔کمیٹی کی تحریک سے اجتماعی احساس بیدار ہوا 

4۔اجتماعی امور میں مشاورت ہونا شروع ہوئی

5۔ایسے با صلاحیت افراد جو معاشرے میں  تعمیری کردار ادا کرسکتے ہیں ان کی ذہنی و فکری تربیت 

6۔سرکاری اداروں سے روابط  اور ان کے ہاں علاقے کی اہمیت

7۔علاقے کے لوگ دینی مدارس اور مساجد کے نظام سے وابستہ ہوئے

8۔اصلاح معاشرہ کے ضمن میں مختلف  تقاریب کا انعقاد

9۔وقتی مسائل کا فوری حل

10۔تربیتی امور پر خصوصی غور و فکر

11۔مساجد کے نظام کی بہتری کے لیے  مجالس کا اہتمام

12۔علاقے سے  مختلف جرائم کا خاتمہ ہوا  جن میں :

منشیات کے مراکز کا خاتمہ

منی سینما گھروں  کی بندش

آئل پوائنٹس کا خاتمہ

چوری ،ڈکیتی  کی واردات میں حتی الامکان کمی واقع ہوئی

سڑکوں کی تعمیرات 

بجلی کا نظام  بہتر ہوا

عزائم

1۔ہر علاقے میں اصلاحی کمیٹیوں کا منظم ہونا

2۔اپنے آس پاس کے ماحول پر نظر رکھنا

3۔منکرات کی روک تھام کا وسیع نیٹ ورک

4۔معروفات کی ترویج

5۔معاشرتی مسائل میں علماء کی رہنمائی

6۔مزید اصلاحات کے لیے مسلسل غور و فکر سے کام لینا

7۔آپس میں ایک دوسرے سے باخبر رہنا