تاریخ و تاسیس

،شرکائے سفر میں شیریں جناح  کالونی کے بعض رفقاء بھی ساتھ تھے ،مچھر کامونی کی ایک مسجد میں قیام تھا ، دوران قیام گفتگو میں ’’قرطبہ مسجد ‘‘کا ذکر ہوا ،جس کی تعمیر و ترقی رکی ہوئی تھی اور مختلف مسلکی اختلافات نے ماحول متا ثر کر رکھا تھا ،مسجد کو ایسے افراد کی ضرورت تھی جو  اس کا درست انتظام سنبھال سکیں ،مسجد کی انتظامیہ کمیٹی میں سے :

1۔ حاجی  سعید الرحمٰن   : صدر کمیٹی

2۔حاجی عادل                : سکریٹری

3۔حاجی ابرار     : ممبر کمیٹی

4۔حاجی سلیم جاناں   : ممبر کمیٹی 

5۔حاجی غنی الرحمن  : ممبر کمیٹی 

یہ اس وقت کی بات ہے جب میری خدمات مدینہ مسجد پلے لینڈ کلفٹن  میں تھیں ،مدینہ مسجد میں حفظ کی کلا س قائم تھی ،جہاں قاری عنایت الرحمن صاحب پڑھاتے تھےاور امامت کے فرائض بھی انجام دیتے تھے ۔ان حضرات نے مجھ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں اس کام میں  ان کی معاونت کروں ، لیکن چونکہ مساجد اور مدارس میں انتظامیہ کے اختلافات ہمیشہ سے ان اداروں کے مقاصد کو برباد کر تے رہے ہیں ،جس کے سبب انتظامیہ کی اپنی وہ صلاحیتیں بھی جو دین کی سر بلندی کے لیے استعمال ہونی  چاہیے ضائع ہوجاتی ہے۔ ان معاملات کا شاید مجھے کچھ تجربہ تھا اسی لیے میں ان حضرات کی خدمت میں دو ٹوک انداز میں یہ بات رکھ دی کہ ’’اگر آپ حضرات مسجد قرطبہ کا نظم و نسق میرے حوالے کریں گے تو خدمات کے مواقع آپ کو ضرور دیے جائیں گے لیکن حل و عقد کے امور  اور اختیار ات ہمارے پاس ہوں گے ،لہذا آپ بھی اس پر مشورہ کرلیں اور ہم بھی استخارہ و استشارہ کر کے آپ کو اپنی رائے سے آگاہ کرلیں گے‘‘ ۔

حضرت قاری ابراہیم صاحب ؒ جو کہ ہم سب بھائیوں  کے مرشد تھے ان سے اور دیگر اکابرین سےمشاورت کے  نتیجے میں یہ بات سامنےآئی کہ مکمل اختیاراحوالہ کرنے  کی شرط لگانا مثبت فیصلہ تھا ،جس کے بعد انتظامیہ میں سے چند مخصوص افراد   نے آکر مجھے تمام دستاویزات اور اختیارات حوالے کردیے اور یوں جامعہ قرطبہ کی تاسیس کا سفر شروع ہوا ۔اس اخلاص کا نتیجہ یہ ہے کہ حاجی سعید الرحمٰن مرحوم ،حاجی عادل شیر مرحوم ،حاجی محمد یسین مرحوم  اور حاجی غنی الرحمٰن کی وفات کے بعد جامعہ نے ان سب حضرات کے لیے اب تک ایصال ثواب کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اور پورے اہتمام کے ساتھ جامعہ قرطبہ سے وابستہ معاونین،محسنین اور مخلصین کے لیے ایصال ثواب کا عمل جاری ہے اور ہم جامعہ کو ان مرحومین کے لیے صدقہ جاریہ سمجھتے ہیں ۔ والحمدللہ تعالیٰ

        اسی سال ایک مرتبہ پھر سفر پر جانا ہوا ،دوران سفر ایک عالم دین مولانا امان اللہ صاحب  کی گفتگو بھی بڑی راہنما ثابت ہوئی کہ علماء اور عوام میں فاصلے کیوں ہیں ؟ ان فاصلوں کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے ؟       فرمایا کہ علماء عوام سے چندے طلب کرتے ہیں جبکہ دیگر عوامی اصلاحی امور اور معاملات سے ان کا تعلق نہیں ہوتا ،اسی لیے عوام کا علماء پر اعتماد باقی نہیں رہا ، علماء کا تعلق عوام  کے ساتھ احتیاج کا تعلق ہے جبکہ یہ تعلق راہنمائی کا ہونا چاہیے ، اسی وقت میں نے یہ عزم کرلیا کہ عوام کے ساتھ اصلاحی اور خدمت خلق جیسا تعلق رکھنے کی ضرورت ہے باقی مالی معاملات توکل  کی بنیاد پر کرنے کی ضرورت ہے ۔بہر کیف!سفر سے واپسی پر دستاویزات میرے حوالے کیے گئے ،لیکن چونکہ قرطبہ کا پلاٹ لیز نہیں تھا اسی لیے میں نے سب سے پہلے ’’کے ڈی اے ‘‘ سے تمام قانونی معاملات  مکمل کر لیے ،جس کے بعد جامعہ قرطبہ کا سفر باقاعدہ شروع ہوا ۔ابتداءً جامعہ قرطبہ کے مقام پر قرطبہ گورنمنٹ اسکول قائم تھا بڑی مشکل سے اس کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا اور پھر آغاز ِ تعلیم قرآن کریم ،قاعدہ،ناظرہ اور حفظ کی کلاسز  سے ہوا پھر مرحلہ وار اس میں اللہ تعالیٰ نے برکت اور ترقی دی اور اب الحمدللہ جامعہ میں دورہ حدیث اور تخصصات تک کے در جات قائم ہیں۔

جامعہ قرطبہ نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے آس پاس کے معاشرے کے ساتھ جڑے مسائل کو بھی اپنی فہرست میں شامل کر رکھا ہے،تاکہ  جامعہ کی کارکردگی صرف مدرسہ کی چار دیواری تک محدود نہ رہے بلکہ ان معاشرتی و سماجی پہلووں پر بھی کڑی نظر رکھی جائےجن کی اساس پر قائم رہنا ایک صالح معاشرے کے لیے  ایک ناگزیرعمل ہے۔ جامعہ قرطبہ کے قیام سے قبل علاقے کی صورت حال کافی حد تک دگر گوں تھی،نہ کوئی انتظامی سہولت میسر تھی اور نہ ہی امن و سکون۔ 

        سڑکیں ٹوٹی ہوئی ، سیوریج کا نظام متا  

  جامعہ قرطبہ کے مختلف شعبہ جات کا تعارف  اور ان کا معاشرے میں کردار اس حوالے سے تفصیلات اساتذۂ جامعہ  کی تحاریر ملاحظہ کی جائیں ۔               چونکہ مجلہ کا اجراء ایک ناگزیر تقاضہ تھا اسی  سبب رفقائے جامعہ نے اس کا آغاز کرلیا ہے ، یہ مختصر سطور تحریر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مجلہ قرطبہ  کو بھی جامعہ قرطبہ کی طرح ترقی کی راہ پر گامزن رکھے اور اس کا کردار بھی جاندار ثابت ہو ۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز