تعلیم و تربیت

عوامی تعلیم و تربیت کی اہمیت:

       دین اسلام چونکہ ہر جن و انس کی ضرورت ہے  اور یہی نجات کا واحد ذریعہ ہے،لہذا دین حق اور دین  اسلام کی تعلیمات سے روشناس اور واقف ہونا سب کی ضرورت ہے ۔  ان تعلیمات کو حاصل کرنے کے دو درجے ہیں :ایک درجہ فرض عین کا ہے  اور ایک درجہ فرض کفایہ کا ہے۔

فرض عین سے مراد وہ درجہ ہے جس میں دین کی ضروری اور بنیادی تعلیمات آتی ہیں ،جن کو سیکھے بغیر ایک مسلمان درست اور قابل اطمینان زندگی نہیں گزار سکتا ،جس سے یہ خطرہ بہر حال رہے گا کہ زندگی کے لمحات ،صلاحیتیں اور مال صحیح رخ پر استعمال  ہورہے ہیں یا غلط رخ پر ۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں زندگی کی شارع پر یہ انسان کس رخ پر چل رہا ہے، صحیح منزل کی طرف بڑھ رہا ہے یا اس سے دور ہوتا جارہا ہے ،کامیابی کی طرف گامزن یا ناکامیاں اس کے انتظار میں ہیں ۔ غرض اس ضروری علم سے مراد انسان اپنی زندگی سے وابستہ ان تمام ذمہ داریوں اور تعلقات کو صحیح  طور پر انجام دے سکے۔

علم کی دوسری قسم  فرض کفایہ ہے جس سے مراد  ایسا علمی تبحر حاصل کرنا ہے  کہ اس علم میں وسعت آجائے اور اس میں اتنی مہارت حاصل کرلے کہ بقیہ   لوگ اپنی علمی کمی کو دور کرنے کے لیے اس کی طرف رجوع کرسکیں اور یہ ان کی مشکلات اور تشنگی دور کرسکے ۔ علم کا یہ درجہ حاصل کرنا ہر ایک کے لیے ممکن ہے نہ ہی سب پر لازم ہے  ،البتہ اس کے لیے چند افراد کا مختص کیے جانا ضروری ہے ،خصوصاً ہر علاقے میں ایک ایسا فرد ہونا ضروری ہے جو اپنے آس پاس کے لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

حصول علم کے درجات :

مذکورہ تعبیرات کو بدل کر ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں  کہ علم دین سیکھنے والوں کی دو اقسام ہیں : 1۔کل وقتی   2۔جز وقتی

کل وقتی سے مراد وہ طالب علم ہے جو اپنا مکمل مصرف علم کو قرار دے ،دیگر تمام  مصروفیات سے کنارہ کش ہوکر فقط علم دین کے حصول کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنادے ، یکسو ہو  کرحصول علم کے لیے کوشاں رہے ۔ جبکہ جز وقتی طالب علم سے مراد جو علم حاصل کر نے کے لیے کچھ وقت نکال لیتا ہے  تاکہ ضروریات دین کی حد تک علم حاصل کرسکے ،جس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی دیگر مصروفیات بھی جاری رکھتا ہے ۔

اسی کی  ایک تفصیل یوں بھی بیان کی جاسکتی ہے کہ  علم کا حصول دو طرح ممکن ہے : 1۔تفصیلات کے ساتھ 2۔ضرورت  کے ساتھ

تفصیلات کے ساتھ یعنی علم کو علم کو اس قدر تفصیلات کے ساتھ حاصل کیا جائے کہ جس میں کسی خاص  ضرورت کا لحاظ نہ کیا جائے بلکہ ساری تگ و دو فقط علم کے حصول تک محدود رہے،جس میں بنیاد یہ ہو کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ علم کا حصول ممکن بیانا جاسکے ، باقی جب اس علم کی تطبیق یا اس سے متعلق کسی فائدے کا معاملہ آئے تو اس پر بعد میں موقع کے لحاظ سے عمل کیا جاسکے ۔ دوسرا ضرورت  کے ساتھ اس طرح کہ جب بھی زندگی میں کسی معاملے میں عمل کی نوبت آئے اور کسی ضرورت میں مبتلا ہوجائے تو اسی وقت اس علم کو اہل علم سے پوچھ کر ضرورت کو پورا کر لے۔رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی میں یہ تمام تفصیلات اور حصول علم کے ان تمام طریقوں کا ذکر ملتا ہے ۔

مذکورہ تفصیل سے واضح ہوا کہ حصول علم صرف اہل علم ،علماء اور معلمین تک محدود نہیں   بلکہ اس کا حصول عام ہے چاہے وہ بادشاہ ہو یا فقیر،امیر ہو یا غریب، عالم ہو یا جاہل، مالدار ہو یا نادار،  صاحب منصب ہو یا نوکر،معلم ہو یا متعلم غرض سب کے لیے لازم ہے،کوئی بھی بنی آدم اس ضرورت سے سبکدوش نہیں ہو سکتا ،کیونکہ اللہ رب العزت نے شریعت کے نام سے جو خوب صورت تحفہ ہمیں عطا فرمایا ہے اس  پر عمل اور اس کی خیر و برکات کا صحیح حصول تب ہی ممکن ہے جب ہم شریعت کو سمجھیں گے اور اسی سمجھ بوجھ کا نام علم ہے ۔

جیسا کہ ذکر ہوا کہ علم کا  حصول تو سب کے لیے ضروری ہے لیکن  سب کے لیے یکساں طور پر علم کی تقسیم درست نہیں، بلکہ ہر ایک شخص اپنی ضرورت اور علمی پیاس کے موافق سیرابی کرسکتا ہے ، ایک عام شخص اگر تجارت کا شعبہ اختیار کرتا ہے تو اسے اپنے متعلقہ شعبے سے متعلق تمام ضروری  باتوں کو سمجھنا لازم ہوگا ،اسی طرح کوئی نکاح کے بندھن میں بندھ رہا ہے تو اسے ان تمام حقوق کا اس وقت جان لینا لازم ہے جو اس کی ازدواجی زندگی سے متعلق ہیں ۔

ٹھیک اسی طرح  یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ عوام الناس کی بنیادی  دینی ضروریات اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت کا عمل،  جس ادارے میں طے پایا جائے گا ،جس کا بہترین مقام”مسجد” ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اور حضور ﷺ کے ارشاد کے موافق اللہ کی زمین پر بہترین خطہ مسجد کا ہے،مسجد  مسلمانوں کی آبادی میں ایک بنیادی حیثیت کا ادارہ ہے،جو کہ صرف عبادت کے لیے مخصوص نہیں بلکہ تعلیم و تربیت، عدل و انصاف، ذکر و عبادت اور مرکزی شوریٰ کی حیثیت رکھتا ہے ۔

دور نبوی ﷺ میں تعلیم و تربیت  :

مدینہ میں رسول اللہ کے پیشِ نظر سب سے اہم بات یہ تھی کہ مسلمانوں کا ایک مرکز ہو جہاں سب مسلمان جمع ہوں ، اجتماعی طورپر عبادت کا اہتمام بھی ہو، تعلیم و تربیت کانظام ہو، آپس کے تعارف کی فضاء ہو ،مدینہ تشریف آوری کے بعدچھ ،سات ماہ تک رسول اللہ ﷺنے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر قیام فرمایا، اس عرصے میں نمازکی ادائگی کی کوئی خاص جگہ  مقرر نہیں تھی ،کہیں پر بھی نماز ادا کرلیا کرتے تھے، بالآخر رسول اللہ ﷺنے مسجد ِنبوی کی تعمیر کا ارادہ فرمایا، اس مقصد کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا وہ’’ سہل‘‘ اور’’ سہیل ‘‘نامی دو بھائیوں کی ملکیت تھی، انہوں نے بلا قیمت وہ جگہ رسول اللہﷺکو ہدیہ کرنا چاہی لیکن آپ نے قیمت ادا فرما کر اس زمین کو خرید لیا اور مسجدِ نبوی کی تعمیر فرماکرایک مرکز کا انتظا م کردیا،کچھ عرصہ بعد مسجد چھوٹی پڑ گئی تو اس میں مزید توسیع فرمائی۔

  آپﷺ نےمسجد کے ساتھ ہی درس و تدریس کے لیے ایک چبوترہ بھی بنوایا جو صفہ کے نام سے مشہورہوا،اصحابِ صُفہ کی تعداد مختلف اوقات میں کم زیادہ  ہوتی تھی،جب مدینہ منورہ میں وفود آتے تو اصحابِ صفہ کی تعداد بڑھ جاتی تھی ،جب کہ عام حالات میں تعداد کم رہتی،عام طور پر سات سے اوپر ان کی تعداد بتائی جاتی ہے، اور ان کی کفالت مالدار صحابہ کرام کیا کرتے تھے۔

رسول اللہﷺکے دور میں مسجد کا کردار محض ایک عبادت گاہ کا نہ تھا، بلکہ مسجد پورے معاشرے کو منظم کرنے کا ذریعہ تھی، مسجدِ نبوی میں بہت سے مناظردیکھے جاسکتے تھے ،کبھی ایک مدرسے کامنظربنتا جہاں تعلیم وتربیت کے حلقے لگتے تھے ،کبھی دارالافتاءکاماحول  بن جا تا جہاں لوگوں کے مسائل سن کران کاحل پیش کیاجاتا،کبھی عدالت کا منظردکھائی دیتا جہاں لوگ اپنے مقدمات میں انصاف پاتے ، یہاں تک کہ مالِ غنیمت کی تقسیم کا مرکز بھی مسجد نبوی تھی۔

 اصلاحِ معاشرہ میں مساجد کاکردار:

یہ ایک اہم موضوع ہے جس کی طرف مسلمانوں کو توجہ دینے کی ضر ورت ہے، مساجد مسلمانوں کی آبادی کے ہیڈ کوارٹرز ہیں، جہاں سے مسلمانوں کے تمام حالات و معاملات کی اصلاح اور ان کی مشکلات کا حل ڈھونڈا  جاتا ہے، مساجد میں تعلیم و تربیت کے حلقوں کا اہتمام ہو اور مجالس رشد وہدایت منعقد ہوں ، مسلمان تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوں ، ان کو اپنے خالق سے ٹھیک تعلق کا انداز معلوم ہو اور مخلوق خدا کے ساتھ رہن سہن کا حقیقی ڈھنگ سمجھ میں آجائے۔

نبی کریمﷺ کو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کیلئے بھیجا اور آپ کے ذمہ چار کام لگائے: تلاوت ِکتاب، تعلیم ِکتاب، تعلیم ِحکمت اور تزکیہ۔ ہم ان چارباتوں کو آسانی سے سمجھنے کے لیے یوں کہہ سکتے ہیں کہ تلاوت ِکتاب میں تجوید، تعلیم ِکتاب میں تفسیر، تعلیم ِحکمت میں حدیث و مسائل اور تزکیہ میں تصوف و سلوک کو شامل سمجھیں، لہٰذا مساجد میں انہی عنوانات پر مجالس اور حلقوں کا اہتمام ہونا چاہیے اور مسلمانوں کو ان مجالس سے جڑنا چاہیے۔

1۔مجلس تجویدو عربی:

جس میں قرآنِ کریم کی صحیح تلاوت تجوید کے ساتھ سکھائی جائے ، نماز کے الفاظ اور مسنون دعائیں صحیح تلفُّظ کے ساتھ یاد کرائی جائیں،اس کے بعد عربی زبان سکھائی جائے کیونکہ عربی  اسلام، قرآن اور نبی آخر الزمانﷺکی زبان ہے اور اس کے جاننے سے مسلمان باشعور مسلمان بن سکتا ہے۔

2۔مجلس تفسیر:جس میں قرآنِ کریم کا معانی، مطالب اور مضامین سمجھائے جائیں تاکہ ایک مسلمان اپنی زندگی کے مقصدسے واقف ہوجائے اور قرآن مجید کی روشن تعلیمات کے ذریعے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرسکے اور  حوالے سے اس کے ذہن میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

3۔مجلس حدیث :

جس میں رسول اللہﷺکے فرامین اور ارشادات مؤثر انداز  میں سکھائے اور سمجھائے جائیں ، ایسی مجالس کا انعقاد ہو کہ مادیت کی تاریکی میں ڈھوبا آج کا انسان گویا تصور کی دنیا میں یوں محسوس کرے کہ وہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی مجلس میں بیٹھا ہے ۔

4۔مجلس سیرت و تاریخ:

رسول اللہ ﷺانسانیت کیلئے بہترین نمونہ ہیں ،آپ کے نقشِ قدم پر چل کر ہی کامیابی اور سعادت کی منزل تک پہنچنا ممکن ہے، اس کے بعد خلافت راشدہ اور تاریخِ اسلام کے دیگر ادوار، دروس و عبرتوں کی روشنی میں بیان کئے جائیں، تاکہ ماضی کی روشنی میں بہتر مستقبل کی راہ متعین کی جاسکے اورتاریخ کی آڑمیں جوبہت سے حقائق کومسخ کرکے نئی نسل کواپنے اکابرین اور امت مسلمہ کی تاریخ سے بدظن کیاجاتاہے اس حقیقت کاپہچاناجاسکے۔

5۔مجلس مسائل:

جس میں عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل مسلمانوں کو سکھائے جائیں، طہارت کے مسائل ہوں یا نماز کے، زکوٰۃ کے ہوں یا روزے کے، حج کے ہوں یا قربانی کے، نکاح کے ہوں یا طلاق کے، کاروبار کے ہوں یا آپسی تنازعات کے، وصیت کے ہوں یا میراث کے،غرض  زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق مسائل ان حلقوں میں سکھائے جائیں۔

5۔خطبہ جمعہ و عیدین :

یہ نسبتاً مسلمانوں کے بڑے اجتماعات ہوتے ہیں اس لیے آپس کے ربط و اتفاق اور فکر کی اصلاح کے حوالے سے ایسے موضوعات و عنوانات پر بات ہو جس سے معاشرے پر مضبوط اور مثبت اثرات مرتب ہوں۔

7۔نظامِ فتویٰ:

اگر مسلمان اپنے مسائل تحریری طور پر پیش کرکے مستند اور معتبر حوالہ کے ساتھ فتویٰ حاصل کرنا چاہیں تو اس کے لیے ہر مسجد میں ایک دارلافتاء کا قیام ضروری ہے،جہاں اصول افتاء کی روشنی میں مسائل کے جوابات زبانی اورتحریری دیے جائیں اوراگرخودوہاں سے جواب کاصحیح انتظام نہ ہوسکے توبڑے اداروں سے جواب حاصل کیاجائے۔

جامعہ قرطبہ کا  نظام تعلیم و تربیت:

الحمد للہ جامعہ نے اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے عوام الناس  کی تعلیم و تربیت کو بھی اپنے نظام تعلیم کا ایک مستقل حصہ بنایا  ہے ،جامعہ میں بنیادی طور پر چار شعبے تعلیمی حوالے سے مصروف عمل ہیں جن میں :1۔حفظ و ناظرہ   2۔درس نظامی 3۔قرطبہ اسکول 4۔شعبہ عوام

شعبہ عوام  میں مکمل سرگرمیاں عوام الناس کی تعلیم و تربیت سے متعلق ہیں ،جس کا بنیادی مقصد عوام میں اس شعور کی بیداری ہے کہ  زندگی میں کوئی بھی شعبہ یا پیشہ اپنانے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے رہنا چاہیے۔ساتھ ساتھ یہ تصور بھی ذہنوں میں بیٹھ جائے کہ دین سیکھنا صرف علماء کی حد تک محدود نہیں   بلکہ سب کے لیے لازم ہے ،البتہ اس کے حصول اور درجات میں فرق ہے جو بہر حال ملحوظ رکھنا چاہیے۔ جامعہ قرطبہ پچھلے کئی سالوں سے اس شعبے میں سرگرم عمل ہے ۔اس میں بنیادی طور پر جو کچھ پڑھایا جاتا ہے ہے ان میں : تجوید،تفسیر،حدیث،تاریخ اسلام ،سیرت النبی ﷺ  اور مختلف فقہی مسائل کا سلسلہ شامل ہے ۔

الحمد للہ اس مبارک سلسلے کے نتائج  بڑی حد تک حوصلہ بخش ہیں ،جس سے اس بات  کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ عوام الناس کا بڑا طبقہ آج بھی علمائے کرام سے دین سیکھنے ،سمجھنے کا جذبہ رکھتا ہے ،لیکن بہت سے  حجابات کے حائل ہونے کے سبب اظہار نہیں کر پاتے اور شاید اس لیے بھی کہ ان کو تعلیم دین کے حصول اور اور اہمیت کا کما حقہ شعور نہیں دیا جاسکا۔ 

لہذا ایک ایسے دور میں  جب علماء، مدارس اور مساجد کی  کردار کشی کے لیے جان توڑ کوششیں کی جارہی ہیں، تاکہ کسی بھی طرح سے امت مسلمہ کا رشتہ اپنے ان اداروں سے  کاٹ دیا جائے اور ان کو یہ باور کرالیا جائے کہ وہ از خود دین سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ،جن کا مقصد  دین کی روح پر حملہ کرنا ہے لیکن وہ اس کے لیے ایسے ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں کہ” سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے”۔ ایسے کڑھے وقت میں ہماری ذمہ داریوں کی فہرست مزید   بڑھ جاتی ہے کہ ان ہم اپنا رشہ ایک عام مسلمان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ مضبوط رکھیں اور اس کی فکری اور تعلیمی تربیت کا خاص طور پر خیال رکھیں ۔