دار الافتاء

فقہ اور فقہائے کرام

اللہ رب العزت نے جس طرح انسان کی مادی ضروریات کو پورا کرنے کا انتظام  فرمایا ہے اسی طرح ان کی روحانی اور دینی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے قرآن و حدیث کا   لاجواب اور خوب صورت انتظام فرمادیا اور صرف یہی نہیں بلکہ اس ذخیرے کو سمجھنے اور اس کی باریکیوں  سے واقف ہونے کے لیے فقہائے کرام کے مبارک سلسلے کا انتظام فرمادیا ،فقہائے کرام امت کا وہ سنہری طبقہ ہے جس نے  اپنی جان توڑ کوششوں سے قرآن و حدیث میں بکھرے منتشر موتیوں کو ایک لڑی میں پرویا اور ان بے شمار مسائل کی آسان تسہیل پیش کردی جو کہ اپنی وسعت اور جامعیت کے سبب مختلف مقامات   میں بکھرے ہوئے تھے۔اسی وجہ سے انسانی نظام زندگی سے متعلق جس قدر شعبہ جات ہیں ان تمام کے متعلق آج کے دور میں مستقل مسائل و احکامات کا میسر آجانا یہ ان فقہائے امت ہی کی محنتوں کا نتیجہ ہے ۔   

  اکابرین  امت کی ان محنتوں کا محور   ہی "فقہ ” کہلاتا ہے ، جس کے ذریعے  امت کو ان تمام مسائل سے آگاہ کیا جاتا ہے جو ان کے زندگی کے مختلف حالات میں پیش آتے رہتے ہیں ،جن کا تعلق  طہارت،عبادات،نکاح ،طلاق،تجارت نیز اخلاقیات ،معاشرت اور معاملات سے متعلق مفصل احکامات درج ہوتے ہیں ۔ دور حاضر میں اس  خدمت کا فریضہ دارالافتاء اور مفتی کے ذریعے بخوبی ادا کیا جاتا ہے اور مدارس دینیہ کا وسیع نیٹ ورک اپنے تئی دارالافتاء کے ذریعے امت مسلمہ کی  اس ضرورت کا انتظام فرمارہے ہیں۔

دارالافتاء کا قیام

اسی خدمت اور جذبے کو لے کر جامعہ قرطبہ نے بھی مختلف شعبہ جات کے ساتھ "دارالافتاء” کے شعبے کا  انتظام فرمایا ہے ،تاکہ عوام الناس کے روز مرہ مسائل و معاملات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں  حل کیا جاسکے۔ جامعہ میں دار الافتاء کا قیام 1998ء کو عمل میں لایا گیا، جس میں اس وقت الحمد للہ 12 مفتیان کرام فتویٰ نویسی کی  کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور یہ خدمت زبانی ،تحریری،فون،فیکس،ای میل اور بذریعہ ڈاک ادا کی جارہی ہے ،دار الافتاء کے اوقات صبح 7:45  تا 11:30 اور 2:30 تا 4:30     اور مغرب، عشاء کے بعد آدھا گھنٹہ   اوقات میں شامل ہے ۔اس طرح اب تک تقریباً  754 فتاوی ریکارڈ میں محفوظ ہیں ۔دارالافتاء میں مفتیان کرام کے لیے مختلف درجات ہیں جن میں تصحیح اول کے لیے کے لئے کم از کم  بیس افراد ، تصحیح ثانی کے لئے کم از کم دس افراد اور تصدیق کے لئےکم از کم تین افراد ہیں۔ ہر میدان کے لئے الگ ماہرین موجود ہیں۔

اس کے علاوہ مختلف مواقع مثلاً صیام رمضان،زکوٰۃ  فطرات، حج و عمرہ، قربانی،کاروبار اور تعلقات عامہ وغیرہ کے حوالے سے دار الافتاء پمفلٹ،کتابچے اور رسائل کی اشاعت کا اہتمام کرتا ہے تاکہ ان مخصوص  مواقع کو شریعت کی رو شنی میں سمجھا جاسکے ۔

دارالافتاء کے انتظامی امور کا ڈھانچہ

1.  معیاری ک ای سوا لیہپرچہ دارالافتا ءمیں موجود ہو، سوال اسی معیاری صفحہ پر وصو لکیا جائے۔ معیاری صفحہ  ز سائ

 A کا  ہو۔ 4 . مستفتی ا گراپنے پرچے پر سوال  لکھ کرلائے تو مفتی پہلے اس کو پڑھ لے اور تنقیح کردے پھر معیاری 2 صفحہ پر مستفتی سے لکھوا ے ت اکہمعیاری صفحہ پر غلطی واقع نہ ہو اگر مفتی کو  کی

 پر ات ارنے

 معیاری صفحہ ضرور تپڑے تو مستفتی سے معیاری صفحہ پر دستخط کر ا لیا جائے اور لکھ ت ام وفون نمبر 

 مستفتی کا لیا

 جائے۔ . ئے 3 تو اسی دن تقسیم کیا جا

 ب ب آئے سوال ج  ز (ہاستفتاء

 پر ام ت

 مفتی کا  ئے ک لکھ دتک اجا تابری

 سل سے

 پ یکن ۔تقسیم شدہ فتاوی کی  سے

  مدہ اسفی ااء الگ ک ٓا ایفائل بنائی جائے۔آمدہ استفتاء  کوتقسیم کرنے کے بعد تقسیم شدہ فتاوی کی فائل میں لگا دتک اجائے اور ز ہ حلٰ سے اپنا فتوی

 پر اس فائل

 ذمہ داری مفتی اپنی کر نےکے لئے نکال لے۔  . فتاوی ٰ 4 ساتھی ز سے تقسیم ہوں یعنی ہ

 زتیب

 ئ فتا

 ٰ کو تابری تابری و ی کرنے

 ساتھ کو حل ز  ت اکہ ہ ، دئے جائیں کا موقع مل سکے۔ 5.  پر واپسی کی ت اریخ

 ٰ فتوے اور فتوینمبر لکھا ، ہوا ہو( حلکرنے  کےلئے کم از کم ) ہو چار دن کا وق ۔ 6. ( گئی ہے

 کرلی

 تصحیح

 موجود ہوکہ  پر کوئی علام

 کی جائے اور اس   تصحیح ئب زوق اس کے یےسرخ قلم استعما لکیا جا سکتاہے۔) . کتابوں میں 7 جو اہم  کتبہیں وہ دارالافتاء میں موجود ہوں : ۱ امی

  ۳  ۔ عالمگیری۲ ۔ فتاوی ش بدائع الصی اائع

 ک ز 4  ۔ فتح القدئ

  ۔البحر ۵  ۔ ۔ درر الاحکام ۸  ۔ فتح الغفار ۷ ۔ اعلاء السنن6  الرائق ۱۱ ۔ آپ کے مسائل او ران کا حل۱۰۔ فتاوی محمودیہ ۹ فقہی مسائل وغیرہ ک د ۔جب دی 

 . دارالافتاء  کےلئے ہئے 8 کوئی مستقل آدمی ہوت  اچا ۔ جو کہ دارالافتا ءکے تمام انتظامی امور اورذمہ داریوں  کوسنبھال سکے۔ . کتابیں المار یمیں رکھی جائیں، تپائی پرکتابیں نہ ہوں۔ 9 11.  فوٹو اسٹیٹ مشین کمپیوٹر تک ادارالافتاء تک امکتبہ میں ہونی چاہئے نیز دارالافتاءکااپنا ذاتی کمپیوٹر ہو۔ 11.   تصحیح کرت ااور ریکارڈ ، فوٹو اسٹیٹ کرت ا ا مہر لگات ۔ کا نظام بناتکا جائے 12. کی متعین جگہ ہو۔

 کرنے

 زات محفوظ ک تمام فائل اور دستاوئ .  ز 13 ہ سال کا موا دالگ فایل میں رکھا جائے۔ . رسید دینے اور واپس لینے ۔ 14 کو یقینی بناتک اجائے 

اغراض و مقاصد

دار الافتاء  میں فی الوقت ہونے والی مختلف سرگرمیوں کے ساتھ درج ذیل اغراض و مقاصد بھی شامل ہیں  :

1۔مختلف مسائل کے لیے تحقیقی سروے کرنا

2۔مختلف اداروں سے رابطہ رکھنا اور علمی مواد کی فراہمی 

3۔مختلف موضوعات پر مذاکرے اور مشاورت کا انتظام

4۔ملکی و بین الاقوامی سطح پر  کام کرنے والے مختلف اداروں سے رابطہ رکھنا ،ان کے پاس جانا اور ان کو اپنے ہاں دعوت دینا

5۔دارالافتاء کے لیے ایک  ویب سائٹ جس میں تمام مسائل بآسانی دستیاب ہوں

6۔مختلف موسم اور وقت کے حساب سے  مختلف موضوعات پر پمفلیٹ تیار کرنے اور اس کو چھاپنے اور ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کا نظام

7۔شہری سطح پر سالانہ چارمذاکرےمنعقد کرنا

8۔جدید فقہی مسائل کو مدلل انداز میں پیش کرنا 

9۔مختلف اسلامی احکامات پر کیے جانے والے اعتراضات  کے ایسے تشفی بخش جوابات جس سے شکوک و شبہات کا دروازہ بند کیا جاسکے

10۔پر فتن میڈیا کی وبا سے بچانے کے لیے اس  فتنے کی حقیقت اور نقصانات سے عوام الناس کو آگاہ کرنا

11۔اصلاح معاشرہ کے  لیے علمائے کرام کے کردار کو فعال اور اجاگر کرنا

12۔معاشرے میں موجود  منکرات کو حکمت ،موعظت اور قانونی طریقے سے روکنا

سہولیات 

دارالافتاء   میں درج ذیل سہولیات دستیاب ہیں :

1۔ہر رفیق دار الافتاء کے لیے کمپیوٹر کی دستیابی،نیز دار الافتاء کے لیے پرنٹر،فیکس، انٹرنیٹ اور فوٹو کاپی کی سہولیات 

2۔ہال برائے مذاکرہ

3۔مجلس بحث و تحقیق اور مہمان خانہ

4۔دس افراد پر مشتمل ایک شوری بن چکی ہے جس میں مذکورہ صفات حامل لوگ موجودہیں اور ان میں ہر فرد فتاویٰ شامی  ، اعلاء السنن، شرح معانی الاثار، الفقہ الاسلامی وادلتہ، الفقہ الاسلامی فی ثوبہ الجدید کا مطالعہ کرچکے ہیں اور دس اہم موضوعات پر ان کے مقالے چھپ چکے ہیں۔

5۔نکاح،طلاق،اقتصادی مسائل اور طب کے لیے  حوالے سے مستقل ماہرین کا انتظام

6۔تربیتی مذاکروں کا اہتمام

شعبہ تخصص فی الافتاء

اسی طرح دار الافتاء کے لیے رجال کار کی تیاری کا عمل بھی جامعہ قرطبہ  کے مقاصد مین شامل ہے جس کے لیے شعبہ” تخصص فی الافتاء” کا اہتمام کیا گیا ہے ، اس شعبے میں درس نظامی سے فاضل طلباء کو  ایک سال میں فقہ کے موضوع پر منتخب اور معیاری مطالعہ کرایا جاتاہے اور ساتھ ساتھ تمرین افتاء کے طور پر فتویٰ نویسی کی باقاعدہ مشق کرائی جاتی ہے، جس سے طلباء میں کسی بھی مسئلے پر تحقیق کرنا آسان رہتا ہے اور وہ   اکثر فقہی مآخذ سے بآسانی استفادہ کرلیتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فقہی مجلس  کا قیام

جامعہ قرطبہ میں ایک فقہی مجلس کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے ،یہ مجلس  جید علمائے کرام اور مفتیان عظام کی ایک جماعت پر مشتمل ہے۔مجلس کا بنیادی مقصد  عوام الناس کے مختلف معاشرتی،تجارتی،معاشی، خاندانی اختلاف کو حل کرنا ہے،خاص کر ان  کے درمیان ہونے والے جھگڑوں کی شرعی طور پر تحکیم اور فیصلا کرنا ہے ۔