سیکنڈری اسکول

تعلیم کا مقصد

انگریز کے دور اقتدار میں ہم پر جو تعلیمی نظام مسلط کیا گیاتھا   اس کی بہت سی دیگر خرابیوں کے علاوہ ایک اہم خامی یہ تھی کہ حصول تعلیم کا مقصد  مکمل طور پر بگاڑ دیا گیا لارڈ میکالے کے لائے گئے نظام تعلیم کا مقصد :

سرکاری ملازمت ،معاشی ترقی ،بہتر وسائل کا حصول ،جاہ و منصب  تک رسائی 

جب کہ انگریز سے قبل دی جانے والی تعلیم   کا مقصد بالکل مختلف اور الگ حیثیت رکھتا ہے جس میں:

اللہ کی معرفت کا حصول ،ذات کی تکمیل ،اعلیٰ انسانی اوصاف کا حصول،پوشیدہ صلاحیتوں کا نکھار،ملت اسلامیہ کی خدمت

لیکن چونکہ مادیت   ظاہر ی اثر رسوخ رکھتی ہے اسی لیے  ان اداروں کو زیادہ اہمیت دی جانے لگی جن کا سارا مقصد ہی مادی نقوش تک محدود رہا۔

موجودہ اسکولنگ سسٹم کی خرابیاں

اس روش سے ایک بہت بڑا نقصان یہ ہوا کہ تعلیمی نظام  زوال کا شکار ہونے لگا اور ادارے حصول تعلیم کو ایک پیشے کی صورت دینے لگ گئے ،جس کا منطقی طور پر یہ نتیجہ نکلا کہ  اسکولز،کالج اور یونی ورسٹی کی سطح پر تعلیمی سسٹم پھیلتا چلا گیا اور اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ ہر گلی ،محلے میں اسکولز کی بھرمار ہے،جن میں  اکثر کا تعلیمی معیار ناقابل بیان حد تک گراوٹ کا شکار ہے اور جن کا معیار سراہا جاتا ہے تو ان میں بھی بقیہ فنون کے بجائے انگریزیبول چال پر زیادہ محنت کی جاتی ہے،گویا کہ اسکولز لینگویج سینٹرز کا کردار ادا کرنے لگے ہیں، مزید یہ کہ  کچھ ایسی سرگرمیاں اسکول سسٹم کا حصہ بن چکی ہیں جن کا تعلیم و تربیت سے دور تک کا واسطہ نہیں جن کے ذریعے وہ لاشعوری طور پر اغیار کی تہذیب و تمدن کے اثرات کو قبول کر رہے ہوتے ہیں۔

اولاً تو ان اداروں میں  ایک غریب ،مزدور کی اولاد  جانے کا سوچتی تک نہیں کیونکہ بر وقت فیس کی ادائگی ان کے لیے مستقل سر درد مرحلہ بن جاتا ہے۔اور اگر  ان میں کچھ ہمت کر کے بھی یہ کام کربھی لیتے ہیں تو کچھ ہی عرصے میں دوبارہ سرکاری اسکولز کا رخ کرلجاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اس قدر فضول خرچی کا ماحول بنایا جاچکا ہے کہ آئے روز طالب علم سے مختلف  سرگرمیوں کے نام پر ایک سے ایک قیمتی آلات اور پیپرز کی تیاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے ،جن کی تکمیل میں وہ اپنا وقت،جان اور مال کھپاتے رہتے ہیں۔

اس کے باوجود  طالب علم اپنی قومی زبان اردو بھی ٹھیک سے بول سکتا ہے نہ لکھ سکتا ہے   اور تعلیم کا حقیقی مقصد جو کہ طلبہ کی تربیت ہے اس کی طرف توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ،جس کی وجہ سے   طلبہ نہ استاذ کا ادب احترام کرتے ہیں اور نہ ہی ذرائع علم کا ۔

ان وجوہات کے سبب ایک ایسے تعلیمی سسٹم کی ضرورت ناگزیر سمجھی گئی جو ان تمام نقائص  نقائص کا ازالہ کرسکے اور ایک ایسا نظام تعلیم مہیا کرسکے جو کہ دور حاضر کی بنیادی ضروریات اور تقاضوں کا بھی لحاظ رکھے اور ساتھ ساتھ    تربیت پر بھی بھرپور توجہ دے تاکہ طالب علم ادارے سے رسمی فراغت کے بعد بھی اپنے عمل اور کردار سے اس بات کو باور کراسکتا ہو کہ وہ ایک سنجیدہ اور معیاری نظام تعلیم سے وابستہ رہا ہے۔

قرطبہ سیکنڈری اسکول

ان عزائم کے تحت جامعہ قرطبہ نے اپنا تعلیمی سسٹم حفظ ناظرہ، درس نظامی اور عوامی  رکھنے کے ساتھ ساتھ اسکول تک وسیع کرلیا ہے، جس کا نام “ قرطبہ سیکنڈری اسکول” رکھا گیا ہے  ،تاکہ طلبہ کی ذکر کردہ نہج اور عزائم کے مطابق تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جاسکے ،اس اسکول کا قیام اپریل 2013ء کو عمل میں لایا گیا،جس میں  ششم تا میٹرک تک تعلیمی سلسلہ جاری ہے ، طلباء کی کل تعداد 80 اور اساتذہ کی 8 ہے۔

قرطبہ سیکنڈری اسکول جامعہ قرطبہ کا ایک ذیلی ادارہ ہے ،جس کا اولین مقصد  طلباء کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم دلاکر ان کی تربیت مکمل اسلامی خطوط پر کرنا ہے،جس کا مقصد  طلباء میں تعلیم کے معیاری حصول کے ساتھ ساتھ ان میں اسلام کی جانب رجحان پیدا کرنا ہے جس سے ان کے تشخص پر  مثبت اور گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ جن کا مقصد فقط پیشے کا حصول نہیں بلکہ ایک ایسی زندگی گزارنا ہے جس کے ذریعے وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کی ادائگی کا حق  شعور جان سکیں ۔

نظام داخلہ

داخلے کا اعلان

10مارچ کو داخلوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔

تاریخ داخلہ 

20مارچ تا یکم اپریل داخلے ہوتے ہیںاور آغاز پڑھائی 10اپریل 

کوائف داخلہ

داخلہ کے وقت طالب علم کی عمر زیادہ سے زیادہ تیرہ سال ہو۔

سرپرست کےشناختی کارڈکی کاپی، چار عدد پاسپورٹ سائز تصاویر، پیدائشی سرٹیفکیٹ یا فارم”ب“ درخواست کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہے۔

کلاس نہم میں داخلہ کیلئے  فارم”ب“ اور مڈل کا سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔

تحریری امتحان

انگریزی ریاضی اور اردو میں تحریری ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور اس میں کامیابی داخلہ کی بنیاد اور شرط ہے۔

تجوید کا امتحان

طالب علم کا تلفظ اور روانی سے قرآن کی تلاوت کا امتحان لیا جاتا ہے ۔

ان مراحل سے گزرنے کے بعد طالب علم کو داخلہ فارم پر کرواکر اور فیس وصول کرنے کے بعدداخلہ دیا جاتا ہے۔

نصاب تعلیم 

قرطبہ اسکول کا نصاب دیگر اسکولز کے مقابلے میں مختلف ہے ، درجہ ششم‬ اور ہفتم  کا نصاب مکمل طور پر دینی ناشران کتب کا مرتب کردہ ہے ،جب کہ درجہ ہشتم کے نصاب مین انگریزی،کیمسٹری  اور حیاتیات کے مضامین میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا مرتب کردہ نصاب شامل ہے،اسی طرح ریاضی اور عربی کا نصاب بالترتیب علمائے کرام  اور البشریٰ ٹرسٹ کا مرتب کردہ ہے۔ اور درجہ نہم اور دہم میں سندھ ٹیکسٹ بورڈ کے جاری کردہ نصاب کے علاوہ عربی کا نصاب البشریٰ ٹرسٹ کا رکھا گیا ہے  ۔اس طرح قرطبہ اسکول میں جاری نصاب تعلیم کا دیگر اسکولز کے مقابل یہ فرق ہے کہ یہ نصاب طلباء کی صلاحیتوں کو عصری علوم کے ساتھ سات دینی علوم میں بھی  اجاگر کرتا ہے،جس سے ان کی دینی رغبت ،شوق اور ذہن و فکر میں دینی رنگ غالب آنے لگتا ہے،اس کا آسان طریقہ یہ رکھا گیا ہے کہ اساتذۂ طلباء کو جگہ جگہ ان مقامات کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں جہاں کہیں سائنس یا اس کے مظاہر کو ایک غیر اقداری فن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے ،وہاں استاذ ان کو اللہ کی قدرت اور ہر شے میں اس کی قدرت کے مظاہر سمجھاتا ہے تاکہ  طالب علم کائنات میں موجود ہر توانائی کی نسسبت کسی سائنسی اصول تک محدود رکھنے کے بجائے اس کی نسبت اللہ رب العزت کی طرف سمجھے اس طرح طلباء مادیت کے ان برے اثرات سے محفوظ رہتے ہیں جس کا شکار ہو کر معاصر تعلیمی نظام الحاد کی راہ لے چکا ہے ۔

ذیل میں قرطبہ سیکنڈری اسکول کے نصاب کا خاکہ  ملاحظہ فرمائیں :

درجاتمضامین
ابتدائیہ(ششم)اردوانگریزیریاضعربیتجویداملاءو خوشخطی
ہفتم  اردوانگریزیریاضی  عربی  تجویداملاءو خوشخطی
ہشتممطالعہ پاکستانانگریزیریاضیعربیکیمسٹریبیالوجی 
نہممطالعہ پاکستانانگریزیکیمسٹریبیا لوجیعربیتجویدسندھی
دہماسلامیاتانگریزیفزکساردوریاضیعربیتجوید

طلباء کی تربیت 

قرطبہ سیکنڈری اسکول اپنے ابتدائی تجربات کے باوجود اس بات کا  مضبوط ارادہ رکھتا ہے کہ ان کے ہاں طلباء کی تعلیم و تربیت کا خاص طور پر خیال رکھا جائے ،صرف الفاظ کا رٹنا مقصد نہ رہے بلکہ مقصد ان  الفاظ کی روح تک رسائی ہو ،جس سے طالب علم کتاب اور استاذ کے ساتھ قلبی میلان اور لگاؤ رکھ سکے ۔ ساتھ ساتھ حصول تعلیم کا مقصد صرف ان کی دنیا تک محدود نہ رہے بلکہ  آخرت کا سنوارنا طالب علم کے لیے اولیں مقصد کی حیثیت رکھتا ہو۔ اور طالب علم کا ظاہر و باطن دونوں نیک سیرت،با اخلاق اور نیک اطوار سے مزین رہے  ، وہ اپنے کردار اور گفتار کے ذریعے دعوت اسلام کا فریضہ انجام دے سکیں ۔ وہ عصری تعلیم کو فقط منصب تک حصولی کے بجائے اس کے ذریعے ان مختلف اداروں  تک رسائی کا ذریعہ بنا لے جہاں جھوٹ،خیانت،رشوت اور دھوکے کا بازار گرم ہے،تاکہ یہ وہاں جاکر اپنی داعیانہ صفات کے ذریعے اس شعبے کو تبدیلی کا رخ دکھا سکے۔

مدارس اور موجودہ اسکول سسٹم

تاریخ کے جھروکوں میں جھانکا جائے دور غلامی  سے قبل بر صغیر میں جو نظام تعلیم رائج تھا وہ “مدرسہ” کے نام سے ہی معروف تھا، جس میں دینی و عصری دونوں طرح کی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا تھا،لیکن چونکہ ان میں انگریز کے   ایجاد کردہ علوم فنون شامل نہیں تھے اسی لیے انگریزنے قابض ہوکر اس پورے تعلیمی ڈھانچے کو بدل ڈالا ،ورنہ اسی مدرسہ کے تعلیمی نظام سے عظیم ہستیاں پیدا ہوتی رہی ہیں ،جن کے نام آج  بھی سنہری حروف سے لکھے جاتے ہیں ۔غرض انگریز نے قابض ہوکر تعلیمی نظام میں اس مقصدسے تبدیلی کی کہ بر صغیر کے لوگوں کا ذہنی اور فکری سانچہ بدل دیا جائے اور ان کو ایک فرماں بردار غلام بنا دیا جائے جس میں وہ اس وقت واقعی کامیاب ہوگئے ۔

آج ہمارے ہاں جتنے بھی تعلیمی  سلسلے جاری ہیں وہ کلی طور پر مغرب کے آلہ کار ہیں اور بغیر کسی تبدیلی   کے ان ہی کی فکر کا پرچار کر رہے ہیں جن میں سر فہرست:آکسفورڈ،کیمبرج،آغا خان بورڈ، سرکاری بورڈ،آرمی اسکول سسٹم، ایچ ای سی وغیرہ بطور خاص شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان اداروں  کے فضلاء صرف انہی نظریات کا بول بالا کرنے لگ جاتے ہیں جس کی لارڈ میکالے دعوت دینے یا تھا ،جس کی وجہ سے نہ ان میں کوئی تخلیقی صلاحیت بن پاتی ہے اور نہ ہی وہ معاشرے کے لیے سود مند شمار ہوتے ہیں ۔

جب اس  پس منظر کی رو سے دیکھا جائے تو مدارس سے وابستہ اسکول سسٹم  بڑی حد تک مفید خدمات انجام دے رہے ہیں ،وہ زیادہ سے زیادہ اس کوشش میں  مصروف رہتے ہیں کہ کس طرح اس نظام تعلیم کو اسلامی اقدار سے آراستہ کرلیں۔

الحمد للہ ! آج بھی مدارس سے میں  موجود اکثر اسکولز اپنے معیار اور کارکردگی میں  آگے بڑھتے جارہے ہیں اور ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب  یہ اسکولز مسلمانوں کو ذہنی غلامی سے نجات دلانے میں کامیان ہوجائیں گے۔

قرطبہ سیکنڈری اسکول :خصوصیات اور  عزائم 

قرطبہ سیکنڈری اسکول  کی خصوصیات ،شرائط اور عزائم میں  چند امور بطور خاص قابل ذکر ہیں :

1۔نظام تعلیم کو زیادہ سے زیادہ مضبوط و مربوط  کرنا

2۔تدریسی عملے کی تقرری قابلیت ، تجربہ اور متعلقہ مضمون میں  مہارت کی بنیاد پر کرنا

3۔ نصاب تعلیم کا علمائے کرام اور اساتذۂ کمیٹی کے ذریعے  جائزہ لیتے رہنا 

4۔طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لیے تیار کرنا 

5۔وہ  حفاظ طلباء جن کو عصری تعلیم کا موقع نہ مل سکا ان پر بطور خاص محنت کرنا

6۔دینی و عصری تعلیم کا ایسا نظام پیش کرنا کہ  باطل نظام تعلیم کی طرف رجحان ہی ختم ہوجائے اور اسی کی طرف رغبت پیدا ہوجائے

7۔معیار تعلیم پر خصوصی مشاورت 

8۔علماء اور ماہرین تعلیم کے تعاون سے مزید بہتر سے بہتر نصاب  تعلیم تیار کرنا

9۔ہفتہ وار بزم کا اہتمام ،جس میں طلباء بھرپور حصہ لیتے  ہیں 

10۔مختلف موضوعات پر اردو،انگریزی اور عربی تینوں زبانوں  پر تقریر کی محنت کرائی جاتی ہے۔