مدرسۃ الخیر للبنات

کسی بھی تعلیمی نظام کی   تکمیل اسی وقت ہوسکتی ہے جب  امت کے ہر طبقے کو اس تعلیمی سلسلے سے فائدہ پہنچایا  جاسکے خواہ بچے ہوں یا بچیاں ،مرد ہوں یا خواتین ،یہی وجہ ہے کہ حضور اقدس ﷺ پر جب سب سے  پہلی وحی الہی کا نزول اقراء باسم ربک الذی خلق  ترجمہ: "پڑھ اپنے رب کے نام سے  جس نے پیدا کیا” سے ہوا تو اس میں  اقراء کا خطاب اللہ رب العزت نے مرد عورت دونوں کے لیے عام فرمایا ہے،کیونکہ دونوں ابن آدم ہونے کی حیثت سے ایک ہی مقصد حیات لے کر دنیا میں آئے ہیں ۔

خواتین کی دینی تعلیم و تربیت کو جس قدر  سنجیدگی سے لیا جائے کم ہے ،کیونکہ یہ سلسلہ صرف اس ایک جنس تک محدود نہیں رہتا  بلکہ ان سے پرورش پانے والی اس آنے والی نسل تک اس کے اثرات جاری رہتے ہیں جو کہ   ایک طرح سے امت کا مستقبل ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا میں بھیج کر سب سے پہلے ان کی جوڑی حضرت حوا علیھا السلام کے ذریعے مکمل کی گئی  تاکہ یہ جوڑا نسل انسانی کی افزائش کا ذریعہ بن سکیں ۔

  امت کے ہر فرد کی  تربیت کا جو فریضہ ایک ماں انجام دیتی ہے ویسا کسی بھی تعلیمی ادارے کے بس کی بات نہیں،گھر کا مکمل نظم و نسق، اس کی صفائی ستھرائی، زیب و زینت  اور گھر کو مکمل طور پر ایک مثالی ماحول قائم کرنے میں جو کردار عورت کا ہے وہ مرد کا بھی نہیں ،اسی طرح بچوں کی تربیت اور ان کی درست خطوط پر رہنمائی ،لمحہ بہ لمحہ ان کی نگرانی و خبر گیری  اور ان کی ہر عادت و اطوار سے مکمل واقفیت ایک ماں ہی کے علم میں ہے۔

          علوم نبوت کی ہم تک رسائی  میں ایک اہم کردار ان امہات المومنین کا  بھی ہے جنہوں نے نبوت کے اس چشمے سے براہ راست سیرابی   حاصل کی اور نہایت ہی مضبوط خطوط پر ان علوم کو ہم تک منتقل فرمایا  جن میں ام المومنین حضرت عائشہ رض کا نام سر فہرست ہیں ،جن کی علمی ،ادبی روایات جا بجا موجود ہیں اور کئی اصحاب النبیﷺ آپ سے  استفسار فرمایا کرتے تھے ،خاص کر آپﷺ کی خانگی اور ازدواجی زندگی کے وہ پہلو جن سے گھر کا باہر واقف نہیں تھا وہ مکمل اسوہ حسنہ ہم تک ان ہی پاک طینت  امہات کے توسط سے پہنچا ہے۔

 اسلام سے قبل عورتوں کی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دی جاتی تھی؛ اس لیے آپ نے لڑکیوں کی تعلیم وتربیت کی طرف خاص توجہ دلائی، آپ کا ارشاد ہے: جو شخص اپنی بیٹی کی خوب اچھی طرح تعلیم وتربیت کرے اور اس پر دل کھول کر خرچ کرے تو (بیٹی) اس کے لیے جہنم سے نجات کا ذریعہ ہوگی (المعجم الکبیر للطبرانی ۱۰۴۴۷)، امام بخاری نے تعلیم نسواں کے سلسلے میں ایک پورا باب ہی قائم کیا ہے باب عظة الامام النساء وتعلیمہنّ، حضور علیہ الصلاة والسلام جیسے صحابہٴ کرام کو پند ونصیحت کیا کرتے تھے ویسے ہی صحابیات کے درمیان بھی تبلیغ دین فرمایا کرتے تھے۔امت مسلمہ کہ تاریخ   میں علوم اسلامیہ کے جن جن شعبہ جات مثلاً تفسیر،حدیث،فقہ میں مردوں نے خدمات انجام دی ہیں ،اسی طرح خواتین اسلام کا بھی اس میں بڑا کردار رہا ہے اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے ،آج بھی علم دین کے حصول کی خاطر خواتین اسلام کا ایک وسیع حلقہ بڑے پیمانے پر متحرک عمل ہے ،جن کے ذریعے   علوم نبوت کی شمعیں مدارس سے نکل کر ہر خانہ خاتون تک پہنچ رہی ہے اور آج کے پر فتن ماحول میں رہنے کے باوجود وہ اپنی روایات اور پاک دامنی کا سہارا ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں، آج بھی ان کی امنگوں کا محور علم دین ہے ،جس سے وہ ایک دور اندیش کی طرح میدان عمل کا رخ کر رہی ہیں۔

بنات کے لیے مختص تعلیمی اداروں کی تعداد روز بروز بڑھتی جارہی ہے جس  سے ان کی ضرورت ،اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، ہزاروں کی تعداد میں   بنات کا مدارس کا ایک جال پھیلا ہوا ہے ۔وقاق المدارس پاکستان سے اب تک ہزاروں کی تعداد میں  قرآن کریم کی حافظات اور معلمات تیار ہوچکی ہیں۔ جو کہ الحمدللہ جگہ جگہ مختلف تعلیمی حلقوں سے وابستہ ہیں اور  اس مادیت زدہ دور میں علوم بنوت کی اشاعت کا فریضہ انجام دے رہی ہیں ۔

       اسی سلسلے کی ایک کڑی "مدرسۃ الخیر للبنات” بھی ہے ،جو کہ امت  کے اس بابرکت تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے  خدمت کے جذبے سے سرشار ہے ،ادارے کا سنگ بنیاد حضرت صندل بابا جی ؒ  اور استاذ المحدثین حضرت شیخالحدیث سلیم اللہ خان ؒ کے دست مبارک سے      ؁۲۰۰۶ءکو رکھی گئی۔ ان دو بزگان دین کے ہاتھوں لگایا گیا یہ پودا آج ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے  ،جس میں طالبات کی کل تعداد 466 اور 20 معلمات خدمت کا فریضہ انجام دے رہی ہیں ۔الحمد للہ ! اس ادارے کو خواتین کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے پورے شہر میں ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے ،   تربیت پر خصوصی زور دیا جاتا ہے تاکہ یہاں سے علم دین سے کے زیور سے آراستہ خواتین ایک مثالی ماں،بہن،بہو،بیوی اور بیٹی کا کردار ادا کرسکیں اوراپنے معاشرے میں ان کرداروں کو مزید اجلا کرسکیں، ساتھ ساتھ ان سے جو جو خاندان یا افراد وابستہ ہیں یہ ان کی زندگی کی تبدیلی کا بھی ذریعہ بن سکیں  اور ان کا یہ کردار اس صنف نازک کے لیے بھی ایک پیغام ثابت ہو جو عصر حاضر کی رنگا رنگی میں اپنا مقام و مرتبہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ 

مدرسۃ الخیر للبنات میں کل تین شعبہ جات مصروف عمل ہیں جن میں :

1۔ شعبہ کتب  2۔شعبہ ناظرہ 3۔شعبہ ضروریات دین 

1۔شعبہ کتب 

شعبہ کتب میں طالبات کی کل تعداد 126 ہے ،جن کو وفاق المدارس کا مرتب کردہ چھ سالہ درس نظامی کورس مختصر کر کے  پڑھایا جاتا ہے ،البتہ اعدادیہ کی بنیاد پر مستقل کلاسز کا انتظام کیا گیا ہے۔

2۔شعبہ ناظرہ 

اس شعبے میں طالبات کہ کل تعداد 342 ہے،  جن کو قاعدہ سے لے کر قرآن کریم مکمل تک تجوید کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے ،ساتھ ساتھ ضروریات دین سے متعلق  نصاب پڑھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ۔،جس میں وضو،نماز اور دیگر مسنون اعمال کا بھی ذکر ہوتا ہے ۔

3۔شعبہ ضروریات دین 

اس شعبے کے تحت محلے کی ان خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جاتا ہے جن کو اس سے قبل ایسا موقع نہیں ملا،کل  156 کے قریب خواتین کا آنا ہوتا ہے اور ان کے گھریلو ذمہ داریوں کا خیال رکھتے ہوئے ان کے لیے ظہر کے بعد کا وقت  طے کر رکھا ہے، جس میں ان کو قاعدہ،ناظرہ،ضروریات دین،نیز ترجمہ و تفسیر قرآن کے پڑھانے کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے ۔

الحمد للہ !  اس شعبے کے توسط سے علاقے میں پھیلی مجموعی طور پر علم دین سے ناواقفیت کا بڑی حد تک  ازالہ کرنے کی کوشش کامیاب رہی ہے جو تاحال جاری ہے۔ اس طرح ادارے سے اب تک کل 7 بیج تعلیمی مراحل طے کرچکے ہیں  جن میں سب سے پہلا بیج سن ؁۲۰۰۹ ء میں فارغ ہوا، اس طرح اب تک کل ۸۰ طالبات کورس کی تکمیل کر چکی ہیں ۔اس کے علاوہ مدرسہ میں ہفتہ وار اصلاحی  بیانات کا بھی سلسلہ رہتا ہے ،جس میں علاقے سے باہر کی خواتین بھی بھرپور شرکت کرتی رہتی ہیں ۔