نظام تعلیم

علم کی اہمیت 

علم انسان کا وہ امتیازی وصف ہے جس نے انہیں فرشتوں پر فضیلت عطا کی اور معلم وہ منصب ہے جسے سرور کائنات حضور ﷺ نے یہ فرماکر اپنے تعارف کے طور پر پیش کیا کہ”انما بعثت معلما”  میں معلم اور استاذ بنا کر بھیجا گیا ہوں،حالانکہ آپ ﷺ کی شخصیت ہمہ جہت شخصیت ،آپ حا کم بھی تھے، خطیب و امام بھی تھے،قائد الجیش بھی تھے،خاندان کے سربراہ بھی تھے،لیکن ان سب کے باوجود آپ نے اپنا تعارف معالم کی حیثیت سے کرایا اور بجائے  کوئی دوسرا منصب ذکر کرنے کے یہ واضح کردیا کہ میں "معلم بنا کر ہی بھیجا گیا ہوں” اس ارشاد میں اہل علم کے لیے تعلیم و تربیت کی ضرورت و اہمیت کا ایک پیغام بھی ہے،یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ تعلیمی تربیتی حلقوں میں شرکت کی دعوت دیتے اور خود بھی اس کا اہتمام فرماتے تھے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والی پہلی وحی قراءت ،قلم اور تعلیم کے تذکرہ پر مشتمل ہے ،اس میں اقراء کا صیغہ ہمیں خدا شناسی اور خود شناسی کی دعوت دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام  میں تعلیم کے مشغلہ اور معلم کے منصب کو ہمیشہ عزت اور وقار کا مقام حاصل رہا ہے اور دنیا  کے ہر حصے میں معلم کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور آج بھی ایک استاذ کی حیثیت مسلم ہے ۔

          کسی بھی معاشرے کی  حالت بہتر بننے کے لیے وہاں کے نظام تعلیم کا معیاری ہونا لازمی ہوتا ہے ، قرآن و حدیث کی تعلیمات کا سہارا لیے  بغیر اسلامی معاشرہ کی بقاء اور اس کے قیام کا تصور ممکن نہیں ۔اسلامی تعلیمات ہی پر کسی مثالی اسلامی معاشرے کی داغ بیل ڈالی جاسکتی ہے، چونکہ قرآن و حدیث اسلامی تعلیمات کا منبع ہیں اسی لیے علم اور اہل علم کی فضیلت ،مقام اور ضرورت کو ان ہی دو ذرائع کی روشنی میں سمجھنا ضروری ہے۔

           علم کی فضیلت ،اہمیت اور اہل  علم کا مقام و مرتبہ سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ علم کی بنیادی اقسام کو سمجھا جائے  :

               1۔علم  نافع      2۔علم ضار یعنی  علم غیر نافع

    کتاب و سنت اور حضور انورﷺ کی تعلیمات کے مطابق جس علم کا حصول مقصد کی حیثیت رکھتا  ہے در اصل وہی ” علم نافع” ہے ،یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ دعا فرماتے ہیں کہ "اللہم انی اسئلک علما نافعا”  اے اللہ میں آپ سے  ایسے علم کا سوال کرتا ہوں جو نفع دینے والا ہو”۔ اس مبارک دعا سے آپ ﷺ  علم کی تخصیص فرمارہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام "علم برائے علم ”  یا "علم برائے مادے” کے تصور پر زور نہیں دیتا جیسا کہ اس وقت ہمارے اکثر و بیشتر تعلیمی اداروں کا حال ہے جہاں ایک  نونہال اپنی عمر کی قیمتی گھڑیاں گذارنے کے باوجود صرف یہی سیکھ پاتا ہے کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ مادیت کا بازار گرام کرنا ہے ،اس کے لیے کیا کچھ دوڑدھوپ کرنی ہے اور کس طرح اس زندگی کے گرد آسائشوں کے انبار لگانے ہیں ، اس  کی کل کائنات دائرہ علم کی بجائے کثرت مال و اسباب اور معاشی استحکام کے نعروں تلے دبی رہتی ہے ۔

    تصور علم

شریعت مطہرہ علم کی حقیقی قدر و منزلت کے پیش نظر علم کا وہ تصور پیش کرتی ہے  جسے "علم برائے عمل ” کا نام دیا جاتا ہے،اس تصور علم کے مطابق علم حاصل کرنے  کے جو مطلوبہ نتائج سامنے آنے چاہییں ان میں ذات کی تکمیل،اعلیٰ انسانی اوصاف کا  حصول ، پوشیدہ صلاحیتوں میں نکھاراور ان کا اظہار اور ان تما صلاحیتوں کو دین و ملت کی خدمت کے لیے صرف کرنے کا جذبہ ،  یہی علم کا مقصد اور اہل علم کاحقیقی مقام ہے ۔علم نافع اور غیر نافع کی تقسیم آج کے تعلیمی نظام اور فلسفہ تعلیم میں اس جوہری فرق کو واضح کرتا ہے کہ آج  کی دنیا کے نزدیک نفع و ضرر صرف اس دنیا کے حوالے سے ہے ،جوبات اس دنیا کی زندگی کو بہتر بنانے اور شخصی،طبقاتی یا اجتماعی زندگی کی کامیابی کے لیے مفید ہے وہ تعلیمی نظام کا حصہ ہے ،جبکہ اسلام علم نافع کا تصور اس حیثیت سے پیش کرتا ہے کہ اس دنیا کے ساتھ ساتھ اصل مقصد  فکر آخرت کی فوز و فلاح اور اس ابدی زندگی میں نجات کو اپنے تعلیمی و تربیتی نظام کا اساسی ہدف قرار دیتا ہے۔

موجودہ نظام تعلیم کا مختصر پس منظر

دور حاضر میں تعلیمی نظام دو اہم  اداروں کے ساتھ وابستہ ہے جن میں عصری ادارے اور  دینی مدارس شامل ہیں۔ ان دو نوں کا تعلیمی ڈھانچہ اور نظام کسی وضاحت کا محتاج نہیں البتہ ان کی  نصابی اور ادارتی تقسیم کا مختصر پس منظر بیان کرنا مقصود ہے ،جس سے استعمار سے قبل کا نظام تعلیم بھی واضح ہوجائے گا  اور ان ہتھکنڈوں کی تاریخ بھی جس سے یہ نوبت پیش آئی۔ 

درس نظامی کی خصوصیات 

انگریز کے بر صغیر پر قابض ہونے سے  پہلے اس خطہ میں جو نصاب تعلیم رائج تھا وہ "درس نظامی ” ہی تھا ، جس  کے مضامین قرآن،تفسیر،حدیث،فقہ،اصول حدیث،اصول تفسیر ،اصول فقہ،فارسی،صرف و نحو،ادب عربی،بلاغت،عروض و قوافی، عقائد و  کلام ،مناظرہ، تاریخ، منطق، فلسفہ،علم جغرافیہ، علم ہیئت و فلکیات،علم ہندسہ،میراث وغیرہ تھے ۔ یہ نظام تعلیم چونکہ تمام دینی اور دنیاوی علوم پر مشتمل تھا اس لیے اس نظام تعلیم کے فارغ التحصیل  طلباء عملی زندگی کے ہر شعبے کی ذمہ داریاں اٹھا لینے کی استعداد رکھتے تھے ۔چنانچہ ہر شخص اپنے ذوق اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق زندگی کے جس شعبے کو پسند کر کےاختیار کرلیتا اس میں اس کو ترقی کے تمام تر مواقع میسر رہتے تھے ۔غرض یہ کہ اس نظام تعلیم کے زیر تربیت علماء،مفسرین،محدثین،فقہاء،متکلمین،فلاسفہ،ادباء اور مصنفین کی طرح ماہرین طب و سائنس ،بڑے بڑے آفیسر اور ماہرین قانون بھی پیدا ہوئے،یہ تمام لوگ علم و فن کے  ہر اس میدان میں مکمل دسترس رکھتے تھے جس کی ضرورت اس وقت تھی۔

درس نظامی   کا مبارک تعلیمی سلسلہ جاری رہا  ،یہاں تک کہ انگریز سامراج کے آنے کے بعد انہوں نے بغیر کسی رعایت اور اصول و ضابطے کے اس مکمل تعلیمی نظام کو بدل دیا جس میں بر صغیر اور اسلامی اقدار و روایات کا   بڑا حصہ شامل تھا۔ اور اس کے بدلے اپنا تعلیمی نظام مسلط کیا جو کہ سر تا مو ایک الگ تہذیب اور مختلف اقدار کا حامل نظام تعلیم تھا ،جس میں ان بنیادی باتوں کو سرے سے ہٹا لیا گیا جو کہ مسلمانوں کی تہذیب  اور دین کا بنیادی حصہ تھیں اور اس طرح وہ ہندوستان میں ایک نیا تعلیمی نظام لانے میں کامیاب ہوگئے ۔

علمائے کرام کی دور اندیشی

ایسی صورت  میں بہت سے وہ افراد جو امت مسلمہ  کے لیے درد رکھنے کے ساتھ ساتھ سامراج کی پالیسیوں سے بھی واقف تھے انہوں نے  بھانپ لیا کہ یہ تعلیمی نظام ہماری ترقی یا عروج کے لیے نہیں بلکہ اغیار کے تہذیبی غلبے کو بالادست کرنے کی خاطر کیا جارہا ہے ،لہذا انہوں نے اس کی بروقت مخالفت کی اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے اس تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے کوششیں شروع کردیں  جو کہ واقعی ان کی ضرورت تھی ۔ اسی سبب نظام تعلیم کی تقسیم ہوئی جس کی اصل وجہ مدارس کا قیام نہیں بلکہ استعمار کا ایک مخصوص خطے پر قابض ہونا تھا،باقی جو مسلمانوں نے کیا وہ تو ایک رد عمل کی صورت تھی جس کا ہونا ایک ناگزیر عمل تھا۔

یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ   پاکستان کا وجود عمل میں آیا اور علمائے امت نے مسلمانوں کی ضرورت  کو سمجھتے ہوئے یہاں بھی تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنا شروع کیا اور اس میں ان امور کو مد نظر رکھا گیا کہ حالات کی ضرورت اور تقاضوں کے مطابق ایک ایسا تعلیمی ڈھانچہ  مرتب کیا جائے جو یکساں نظام تعلیم کو رواج دے اور اس کے لیے مختلف کوششیں ہوئیں جن میں سر فہرست علماء کی وہ تعلیمی کمیٹی ہے جس کی سربراہی شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد وعثمانی ؒ ،علامہ سید  سلیمان ندوی ؒ،مفتی محمد شفیع صاحبؒ اور علامہ یوسف بنوری صاحب ؒ کر رہے تھے ، جس میں ان حضرات نے علماء کے طویل مشاورت کے بعد حکومت وقت کو ایک ایسی تعلیمی پالیسی پر تجاویز پیش کی تھیں جو کہ واقعی عصری اور  دینی دونوں ضرورتوں کو پورا کر رہی تھیں ، جس کا تفصیلی خاکہ اب بھی موجود ہے،لیکن حکومت وقت کی عدم دلچسپی اور غیر سنجیدگی ان میں سے کسی بھی پالیسی کو مکمل عملی شکل دینے میں ناکام رہی ،جس سے یہ خطرہ لاحق ہوا کہ  عصری جامعات میں تبدیلی تو دور کہیں یہ روش مدارس دینیہ جو کہ واقعی اپنے موجودہ معیار میں پورا اتر رہے تھے ان کے نظام تعلیم کو ٹھیس نہ پہنچادے جس سے رہی سہی محنت بھی ہاتھوں سے نکل جائے۔لہذا علمائے کرام نے حکومت کے ساتھ مختلف تعلیمی پالیسیوں پر ساتھ تو ضرور دیا لیکن ساتھ ساتھ اپنے تاریخی تعلیمی تسلسل "درس نظامی” کو جاری رکھا تاکہ امت مسلمہ کی دینی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

مدارس دینیہ کا نظام تعلیم 

تعلیمی نظام کی اہمیت اور اس کی مختصر تاریخ کے بعد اب  مدارس میں جاری نظام تعلیم پر کچھ معروضات پیش کی جاتی ہیں۔

دینی مدارس کو مدارس  عربیہ ،مدارس دینیہ اور اردو میں دینی مدارس کہا جاتا ہے ،اس نام سے ہی ان کے اغراض و مقاصد  اور اہداف معلوم ہوجاتے ہیں کہ جس طرحدیگر علوم و فنون کے اپنے اپنے ادارے ہیں جہاں متعلقہ فن کے علاوہ دیگر علوم و فنون کی تعلیم نہیں ہوتی  مثلا ً میڈیکل کالج،انجینیئرنگ کالج،لاء کالج،ٹیکنیکل اور دیگر کالجز وغیرہ ۔ٹھیک اسی طرح دینی مدارس سے مراد وہ ادارے ہیں جہاں دین اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے 

دینی مدارس کا نصاب تعلیم

دینی مدارس میں بلکہ ہر ادارے میں  تعلیمی نظام کے حوالے سے دو باتیں اہم شمار کی جاتی ہیں :

1۔نصاب تعلیم 2۔نظام تعلیم

1۔نصاب تعلیم سے مراد  وہ مواد جو ۔۔۔۔ دورانیہ کے دوران طلبہ کو ۔۔۔کیا جاتا ہے  اور انہیں منتقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور یہ نصاب تین قسم کے علوم پر مشتمل ہوتا ہے :   1۔علوم شرعیہ 2۔علوم عربیہ 3۔علوم عقلیہ

علوم شرعیہ کل  تین ہیں :             قرآن              حدیث         فقہ

 اور پھر ان تینوں کے اصول:       اصول تفسیر       اصول حدیث         اصول فقہ 

 اس اعتبار سے علوم شرعیہ کل چھ ہوئے۔علوم عربیہ سے مراد  وہ علوم ہیں جو عربی زبان سے متعلق ہیں ،چونکہ علوم شرعیہ کی زبان عربی ہے  اس لئے بطور آلہ عربی علوم سیکھے اور سکھائے جاتے ہیں ۔علوم عربیہ دو قسم کے ہیں: بعض عربی مفردات سے متعلق ہیں  اور بعض مفردات کو جوڑ کر کلام بنانے سے متعلق ہیں ۔مفردات میں الفاظ کی بناوٹ سے متعلق علم الصرف ہے اور الفاظ کے معانی سے متعلق  علم لغت ہے ،مفردات کو جوڑ کر کلام بنانے سےمتعلق علم النحو ہے اور موقع محل کے اعتبار سے استعمال سے متعلق علم بلاغت ہے ، اس طریقے سے علوم عربیہ چار ہوگئے ۔

علوم عقلیہ سے مراد وہ علوم ہیں  جو عقلی استدلال کے طریقے سے متعلق ہیں  اور ان میں بنیادعلم منطق وفلسفہ ہے ۔ اور پھر جب ان عقلی امور کو ہتھیار بنا کر اسلام کے خلاف  استعمال کیا جانے لگا ،اسلامی عقائد اور افکار میں اس کے ذریعے شبہات ڈالنے کا کام کیا جانے لگا   تو اس وقت علمائے اسلام نے اس ہتھیار کو اسلام کے لئے اسلام کیا اور ان کے ہتھیار سے ان کو جواب دینے لگے ۔ علمائے کرام کا یہ طبقہ متکلمین کہلایا اور اس علم کا نام علم کلام کہلایا ۔ اس طرح علوم عقلیہ بنیادی طور پر تین علوم پر  مشتمل ہیں ۔

اس مکمل تفصیل سے معلوم ہوا کہ مدارس میں پڑھایا جانے والا نصاب جسے درس نظامی کے نام سے جانا جاتا ہے  ،تقریباً 15 کے آس پاس علوم پر مشتمل ہے ، جب ان علوم کے علاوہ دیگر کو بھی ساتھ شامل کیا جائے جیسے سیرت،تاریخ اور جغرافیہ وغیرہ ۔

ایک شبہ کا ازالہ 

اس موقع پر اکثر و بیشتر یہ سوال بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا  ہے کہ جو نصاب اسکول ،کالجز میں پڑھایا جاتا ہے یعنی عصری علوم پڑھانے کا انتظام مدارس  میں کیوں نہیں کیا جاتا ،اگر چہ بعض حضرات کی طرف سے یہ سوال خیر خواہی کے جذبے سے ہوتا ہے اور بعض ایسے بھی ہیں جو اپنی نفرت اور تحقیر آمیز مزاج کے تحت یہ سوال کرتے ہیں۔ چونکہ یہ مستقل موضوع ہے  اس لیے اس اشکال کا مختصر جائزہ لیتے ہیں ۔

مدارس دینیہ میں عصری علوم کے حصول کے لیے ایک مستقل مرحلہ ہے ،جو بعض مدارس میں متوسطہ کی شکل میں ہوتا ہے  اور بعض مدارس میں اسکول کی شکل چکل میں ہوتا ہے ۔اسی لئے جب کوئی طالب علم اپنے انتخاب کی روشنی میں درس نظامی  کے لئے تیار ہوتا ہے تو اس وقت وہ ان عصری علوم سے کسی حد تک گزر چکا ہوتا ہے ،جس طرح اسکولز کی مروجہ تعلیم میٹرک کرنے کے بعد طالب علم  مختلف شعبہ جات اور موضوعات میں سے اپنے انتخاب کو ترجیح دیتا ہے ٹھیک یہی معاملہ مدارس کے تعلیمی نظام کا بھی ہے ۔اسی طرح کچھ طلبہ ابتدائی دینی و عصری تعلیم کے بعد علوم عربیہ کو اپنا   انتخاب بنالیتے ہیں تو یہ اعتراض دیانت اور انصاف پر مبنی نہیں ہوسکتا ۔

مختصر تمہیدی گفتگو کے بعد جامعہ قرطبہ کے نصاب اور نظام تعلیم کی طرف آتے ہیں ۔

جامعہ قرطبہ میں مختلف شعبہ جات کے تحت  طلبہ کی تعلیمی ،تربیتی اور نصابی سرگرمیاں جاری ہیں جن کی تفصیل  پیش کی جاتی ہے ۔

شعبہ جات

۱…شعبۂ قرآن کریم ۲…شعبۂ درس نظامی ۳…شعبۂ اسکول       ۴…شعبۂ عوام 

ان چاروں شعبہ جات کی درج ذیل تفصیل پیش کی جائے گی :

1۔ شعبہ  کا تعارف  2۔نصاب   تعلیم 3۔مدت تعلیم 4۔اوقات تعلیم 

1۔شعبۂ قرآن  کریم 

اس شعبے میں  قاعدہ، ناظرہ ، حفظ، دور،تجوید کی تعلیم دی جاتی ہے ۔

الف۔ مدت تعلیم کل پانچ سال  ہے ب۔کل وقتی کیلئے پورا دن  ج۔جز وقتی کیلئے  صبح یاشام

2۔شعبۂ سکول

اس شعبہ کے تحت  قرآن کریم پڑھے ہوئے طلبہ کیلئے میٹرک سائنس کانظام موجود ہے ۔

الف ۔مدت تعلیم کل پانچ سال  ب۔کل وقتی پورا دن صبح تا شام 

3۔شعبۂ درس نظامی 

اس شعبہ میں:  1۔ علوم شرعیہ(قرآن،حدیث،فقہ اور ان کے اصول )     2۔علوم عربیہ (صرف ،نحو،ادب وبلاغت)               3۔ علوم عقلیہ(منطق،فلسفہ اور علم کلام) کی تعلیم دی جاتی ہے ۔

الف۔مدت تعلیم کل آٹھ سال ب۔اوقات تعلیم صبح تا دوپہر  ج۔شام کے اوقات میں تکرار و مطالعہ 

4۔شعبۂ عوام 

جس میں عوام الناس کو تجوید، تفسیر، سیرت وتاریخ، اسوۂ حسنہ اور عربی  کے اسباق پڑھائے جاتے ہیں ۔

الف۔مدت تعلیم تین سال ب۔اوقات تعلیم نمازوں کے اوقات 

ذیل میں  تمام شعبہ جات کی تفصیل  تفصیل اور جامعہ قرطبہ کا انتظامی ڈھانچہ پیش خدمت ہے ۔

ہم اپنے حالات کاجائزہ لیتے ہیں توتعلیم اورتربیت کے حوالے سے چند کوتاہیاں نظرآتی ہیں:

تعلیمی حوالے سے

ا:اسباق سے غیرحاضری۔ ب:اوقات کی عدم پابندی۔

 ج:سال کے اوّل میں تفصیلات اور آخر میں صرف ورق گردانی ۔ د:صرف کتاب ختم کرنے سے تعلق ،طلبہ کی علمی ترقی واصلاح میںعدم دلچسپی۔  

ہ:کماحقہ مطالعہ اورتدریس کافقدان جس کی نشانی اردوشروح کی ترویج ہے۔

تربیتی حوالے سے

۱:تربیت اورخصوصاًطلبہ کے وضع قطع سے چشم پوشی۔ ب:طلبہ میں موبائل فون کی اطلاع کے باوجود تجاہل۔

ج:صفائی کے حوالہ سے طلبہ کی تربیت میں تساہل۔ ہ:متعلقہ نگرانیوں میں عدم دلچسپی وغیرہ۔

ان سب کوتاہیوں کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم وتربیت پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔

نظام داخلہ

داخلے کا اعلان

 رجب کی چھٹیوں سے قبل آئندہ سال کے داخلوں کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

تاریخ داخلہ 

 8شوال تا15 شوال داخلے ہوتے ہیںاور آغاز پڑھائی16 شوال ہے۔

کوائف داخلہ

بالغ افراد کیلئےاپنے شناختی کارڈ اور نابالغ کیلئے سرپرست کےشناختی کارڈکی کاپی، درجہ اُولیٰ کے لئے متوسطہ، مڈل یا میٹرک کا سر ٹیفکیٹ اور باقی درجات کے لئے سابقہ درجات کی اسناد،سابقہ درجات کے نتائج اور دو عدد تصاویر درخواست کے ساتھ جمع کرانا ضروری ہے۔

تحریری امتحان

جس میں طالب علم کی ذہنی سطح ، فکری وابستگی اور مستقبل کے حوالے سے اس کی سوچ کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور اس میں کامیابی کا معیار خط اور املاء کی صحت ہے۔

تقریری امتحان

 جس میں طالب علم کو مقررہ کتاب کی مخصوص جگہ بتا کر مطالعہ کا موقع دیا جاتا ہے اور وہ مطالعہ کرکے اس کی عبارت، ترجمہ اور مطلب کی وضاحت کرتا ہے اور کامیابی کی صورت میں مطلوبہ درجہ میں داخلے کا مستحق قرار پاتا ہے۔

تجوید کا امتحان

طالب علم کا تلفظ اور روانی سے قرآن کی تلاوت کا امتحان لیا جاتا ہے اگر اس میں کمزور ہوتا ہے تو دوران تعلیم اس کے لئے تجوید کو لازمی کردیا جاتا ہے۔

ان مراحل سے گزرنے کے بعد طالب علم کو داخلہ فارم پر کرواکر اور فیس وصول کرنے کے بعدداخلہ دیا جاتا ہے۔

ذیل میں ایک عہدنامہ ہے جس کے اقرارکے بعدہم اپنے سلسلے کانئے عزم کے ساتھ آغازکریں گے ۔

۱… میں اپنے اسباق کی پابندی کروں گا اوربغیرواقعی اورمعقول عذرکے چھٹی نہیں کروں گا۔

۲…میںاوقات کی پابندی کروں گااوربغیرعذرکے تاخیرنہیں کروںگااورنہ دوسروںکاوقت لوںگا۔

۳…میں اپنےپنے نصاب کی پابندی کروںگا اورسال کے آخرمیںدوڑوالے اندازسے پرہیزکروںگا۔

۴…میں پوری دیانت وامانت کے ساتھ ادارے کے مفادکوذاتی مفادپرترجیح دوں گا۔

۵…     میں ادارے کاماحول بنانے     میں بھرپورکردارادکروںگا۔

۶…میںادارے کے غیرپسندیدہ لباس اوروضع قطع سے پرہیزکروںگا۔

۷…اگر مجھ سے کسی بھی حوالہ سے کوئی کوتاہی ہوگی ، تو اس غلطی کو چھپانے یا توجہ ہٹانے کیلئے میں کسی قسم کی توریہ وتعریض سے کام نہیں  لوں گا۔بلکہ صاف اور صریح الفاظ میں اعتراف کروں گا۔

۸…میں اس عہد کی پوری پابندی کروں گا بصورت دیگر انتظامیہ کو میرے مؤاخذہ کا پورا پورا حق حاصل ہوگا۔

طالب علم سے  داخلہ سے قبل مندر جہ ذیل سوالات کو بھی حل کرایا جاتا ہے ،جس سے اس کی ذہنی ،فکری اور نفسیاتی  حالت کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ۔

آپ کی زندگی کا ہدف کیا ہے؟

آپ کی عمر کتنی ہے؟

آپ کتنی زندگی چاہتےہیں؟

آپ کی مطلوبہ زندگی میں ابھی کتنا عرصہ باقی ہے؟

آج سے دس سال قبل اس دن آپ کیا کررہے تھے؟

آپ کے پچھلے دس سال کس طرح گزرے ہیں؟(تیز، بہت تیز، آہستہ، بہت آہستہ، درمیانہ)

آپ کی بقیہ زندگی کس طرح گزرے گی؟(تیز، بہت تیز، آہستہ، بہت آہستہ، درمیانہ)

آپ ﷺ کی زندگی کا ہدف کیا تھا؟

سوال نمبر1 اور سوال نمبر 8  کے درمیان کتنی مطابقت ہے؟

اگر بالفرض فرشتہ ا ٓپ کے پاس آجائے  کہ تین دعائیں بتاؤ جن میں سے ایک کے قبول ہونے کے 100%ایک کے 75% اور ایک کے 50% امکانات ہوں تو آپ وہ کون سی دعائیں بتائیں گے؟

اپنی زندگی کی تین بڑی پشیمانیاں بتائیں۔

فرض کرو آپ کی عمر 80  سال کی ہو جاتی ہے اور نئی نسل آپ کے سامنے ہوتی ہے اور آپ سے سوال کرتی ہے کہ آپ نے اپنی زندگی میں کون سے بڑے کام کئے ہیں تو آپ کیا بتائیں گے؟

اگر بالفرض لا قدّر اللہ آپ کے سر میں مسلسل کئی دن درد ہونے لگتا ہے اور آپ اپنے کسی واقف ڈاکٹر کو بتاتے ہیں وہ آپ کو  MRI کرانے کو کہتا ہے ،رپورٹ آنے کے بعد آپ اس کو دیکھاتے ہیں تو وہ آپ کو بہت غور سے دیکھتا ہے ، اس کے لہجے میں بہت شفقت ہوتی ہے وہ آپ کو بیٹھنے کو کہتا ہے ،آپ کا اکرام کرتا ہے اور رپورٹ پر پھر ایک نظر ڈالتا ہے، یہ اطلاع دیتا ہے کہ آپ کے دماغ میں کینسر ہوگیا ہے اور ہمار ے حساب سے آپ اس دنیا میں صرف تین مہینے کے مہمان ہیں، آپ اپنی تسلی کے لئے یہ رپورٹ کسی اور کو بھی دیکھا دیجئے،تو آپ اس بقیہ وقت کو کس طرح گزاریں گے؟

آپ نے اسکول کے بجائے مدرسے کی تعلیم کا انتخاب کیوں کیا؟

موجودہ دور میں آپ کن سے زیادہ متاثر ہیں ،اور کیو ںمتاثر ہیں؟

آپ کی پسندیدہ شخصیت کو ن ہیں اور ان کی کون سی بات پسند ہے؟

جامعہ قرطبہ میں داخلے کی وجہ کیا ہے؟

آپ کا پسندیدہ مضمون کیا ہےاور کیوں ہے؟

آپ کا کس سے اصلاحی تعلق ہے؟

معاشرے کی اصلاح کے لئے آپ کے نزدیک اہم بات کون سی ہے؟

نظام تعلیم 

یہ نصاب درس نظامی کے نام سے مشہور ومعروف ہے جس کا مقصد ایسے افراد کی تیاری ہے جو علوم شریعت اور اس کے اصول ومقدمات سے اچھی مناسبت اور واقفیت رکھتے ہوں ۔درس نظامی کا اگر تجزیہ کیا جائے تو تین قسم کے علوم ہیں ،مدت تعلیمآٹھ سال مقرر ہے۔

نصاب تعلیم 

طلباء کی ضرورت اور استعداد کے مطابق نصاب تجویز کیا جاتا ہے، نیز ان علوم کو سیکھنے اور ان میں ٹھوس استعداد پیدا کرنے کے لیے کچھ کتب کا انتخاب کیا گیا ہے اور تجربہ شاہد ہے کہ ان کتب کو پڑھ کر فارغ ہونے والے اچھی استعداد کے حامل ہوجاتے ہیں ۔ اور تدریس ودعوت ا وراصلاح کے میدان میں ان کی خدمات سے امت کو بھرپور فائدہ پہنچتا ہے ۔نصاب مندرجہ ذیل ہے ۔

نقشہ برائے نصاب درس نظامی

اوقات تعلیم 

موسم سرما میں صبح 7:45تا 12:00اورایک گھنٹہ ظہر کے بعد ہوتا ہے۔ موسم گرما میں 7:00تا12:20ہے۔

حاضری و رخصت 

1۔صبح کلاس شروع ہوتے ہی نگران اساتذہ کی حاضری معلوم کرتاہے ،کسی استاذکی غیرحاضری کی صورت میںاس کا انتظام کرتا ہے۔

2۔طباء کاحاضری رجسٹرباقاعدہ چیک کیا جاتا ہے، غیر حاضری کی وجہ معلوم کی جاتی ہے اور اگر والدین کو بلوانے کی ضرورت پڑے تو والدین کو بلاوایا جاتا ہے۔

3۔طالب علم کی چھٹی کی منظوری نگران کی ذمہ داری ہے،سرپرست کے بغیر چھٹی کی اجازت نہیں ، اگر طالب علم چھٹی پر گیا تو رخصت ختم ہو نے پر سرپرست کا آنا 4۔ضروری ہے۔ بصورت دیگر طلباء کو دفتر میں حاضر کیا جاتا ہے کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

5۔اساتذہ اپنی چھٹی یاچھٹیوں کی اطلاع ناظم تعلیم یا مہتمم صاحب کو دیتے ہیں تاکہ اساتذہ کی رخصت کی صورت میں طلباء کے اسباق متاثر نہ ہوں اور متبادل نظام بنایا جاسکے۔

تعطیلات

1۔ ہفتہ میں ایک دن جمعرات کو عصر کے بعد سے لے کر جمعہ کو مغرب تک چھٹی دی جاتی ہےاس کے علاوہ بغیرعذرچھٹی کی اجازت نہیں ۔

2۔سہ  ماہی اور ششماہی امتحانات کے اختتام پر ایک ایک یوم کیچھٹی دی جاتی ہے ، اور عیدالفطر کے موقع پر شعبان، رمضان اور شوال کے دس دن اور عید الاضحیٰ کے موقع پر دس دن کی چھٹی ہوتی ہے۔

قواعد و ضو ابط برائے طلبہ 

1۔ مدرسہ کے مقررہ لباس (مقررہ ٹوپی ، بغیر کالر اور کف آستین) کی پابندی ضروری ہے۔

2۔مقررہ اوقات (عصر تا مغرب) کے علاوہ مدرسہ سے بغیر اجازت نکلنے پر پابندی ہے۔

3۔مقررہ اوقات (عصر تا مغرب) کے علاوہ احباب اور دوستوں سے ملاقات پر پابندی ہے۔

4۔نماز باجماعت میں کوتاہی قابل مؤاخذہ جرم ہے۔

5۔آپس میں اختلاف کرنا اور اپنا فیصلہ خود کرنا قابل مؤاخذہ جرم ہے۔

6۔ کسی بھی تنظیم سے وابستگی پر پابندی ہے۔

7۔اگرطالب علم کہیں چلاجائے اورکوئی حادثہ رونماہوجائے تومدرسہ کسی قسم کاذمہ دار نہیں ہے۔

8۔چھٹی صرف معقول عذر کی وجہ سے مل سکتی ہےاور اس کیلئے درخواست سرپرست خود مقررہ اوقات میں جمع کرائے گا ۔بغیر درخواست کے چھٹی کی صورت میں مدرسہ سے نام خارج کیاجاسکتا ہے۔

9۔ سرپرست کو جب بلا یا جائے تو اسے آنا ہوگا ۔بصورت دیگر بچہ سے متعلق کسی قسم کی شکا یت نہیں سنی جا ئیگی ۔

 10۔سرپرست کیلئے ضروری ہے کہ بچہ سے معلومات کرتے رہیں کہ وہ باقاعدہ پڑھ رہاہے یا نہیں اور جائز شکایات کی صورت میں مدرسہ کے ذمہ دار سے رجوع کریں ۔

11۔ کم ازکم ہر ماہ بچے کی رپورٹ مدرسہ میں دینی چاہئے خصوصاً مندرجہ ذیل امور کے بارے میں ٹی وی ،ویڈیوگیم اور گالی گلوچ ،جھوٹ ،چوری ،بڑوں کی بات نہ 12۔ماننا، رات کو زیادہ دیر تک باہر بیٹھنا ، زیادہ پیسہ لینا اور ایسی چیزوں کا مطالبہ کرنا جو اسکے سرپرست کیلئے پریشانی کا سبب بنتی ہوں ۔

13۔ تعطیلات کے دوران خاص طور پر بچوں کے اعمال ،اخلاق کی پوری نگرانی اور بری مجلس سے بچانا سرپرست کی ذمہ داری ہے ۔

14۔ ان اشیا ء (بال،موبائل فون،ڈائجسٹ،اخبار،ٹیپ ریکارڈ،ریڈیو،استری) پرمکمل پابندی ہے۔

15۔تعلیمی سال کے درمیان مدر سہ چھوڑناجرم ہے ایسے طالب علم کوآئندہ ہرگزداخلہ نہیں دیاجائے گا۔

16۔اجتماعی اعمال اورادارے کی جانب سے جاری ہونے والی ہدایات کی پابندی ضروری ہے۔

نظام تربیت و اصلاح 

1۔ہر ہفتہ نگران اپنے اپنے شعبہ کے طلباء کے ناخن، بال اور کپڑے چیک کرتا ہے، ان کی اصلاح اور ضرورت پڑنے پر تنبیہ کرتا ہے۔

2۔ اصلاحی مجلس میں قابل اصلاح امور پر گفتگو ہوتی ہے اور طلباء کی اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے۔

 3۔’’آداب زندگی‘‘کے موضوع پر بھی متفرق معلومات یکجا کرکے طلباء کے سامنے بیان کی جاتی ہیں اور بعض یاد بھی کرائی جاتی ہیں۔

4۔ ’’مادہ پرستی‘‘ کےاس دور میں ’’ایمان بالغیب‘‘ یعنی ایمان بااللہ، بالرسول، بالقرآن اور بالآخرت پر خوب بیان کئے جاتے ہیں جو اصلاح کی جڑ ہے۔

5۔طلباء کے سامنے ”نمونہ“ رکھا جاتا ہے اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کی جاتی ہے اس حوالے سے مختلف کتب اور اکابرین کی زندگی بیان کی جاتی ہے۔

6۔وقتاً فوقتاً مختلف اکابر علماء کو بیانات کے لئے مدعو کیا جاتا ہے جن کی برکات اور فیض سے طلباء بھی فیض یاب ہوتے ہیں۔

7۔ مدرسہ کے قواعد و ضوابط اور اسی طرح اجتماعی امور میں غلطی کی صورت میں بروقت نکیر کی جاتی ہے اور غلطی کو چلنےاور بڑھنے نہیں دیا جاتا۔

نظام امتحانات

قواعد وضوابط برائے طلبہ

 1 ۔امتحان کے دن کسی قسم کی رخصت اور جملہ اعذار کی شنوائی پر پابندیہے۔

  2 ۔’’کراسۃ الاجوبۃ‘‘ وصول کرکے اس کے مندرجات کو پرکردینا اس پر صرف رقم الجلوس صاف واضح (عربی یا اردو)میں لکھناضروری ہیں۔

 3۔ابتدائی وقت میں پرچے کےحوالےسے سوال پوچھا جاسکتاہے۔  

  4۔جس سوال کا جواب یاد ہو سوال کا نمبر ڈال کر جواب لکھنا شروع کردے،جوابی کاپی میں سوال نقل کرنا ضروری نہیں۔

5۔پرچہ میں کانٹ چھانٹ نہیں ہونی چاہئے اگر لکھنے کے بعد طالب علم سمجھتاہے کہ میں نے غلطی کردی تو اس پر صرف ایک لکیر کھینچ دے۔

6۔پرچے میں حاضری کے ثبوت کے لئے پرچہ جمع کراتے وقت کشف الحضور پر دستخط کرنا ضروری ہے۔

   7۔دوران امتحان آپس میں بات چیت کرنا سخت جرم ہے، ایسی صورت میں طالب علم کو امتحان سے نکالا جاسکتا ہے۔

8۔ اپنے ساتھ امتحان گاہ میں ضرورت کی جملہ اشیاء کو لانا اور غیر ضروری اشیاء کے لانے سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔

درج ذیل امور پر اضافی نمبرملتے ہیں

۱۔حاضری۲۔پابندی وقت۳۔توجہ ودلچسپی۴۔اخلاق وعادات۵۔خدمت وصفائی۶۔پابندی نماز۷۔تلاوت ۸۔تقریری صلاحیت ۹۔تحریری صلاحیت

۱۰ ۔عربیت  

قواعد وضوابط برائے ممتحن

1۔مدرسے میں تین امتحانات ہوتے ہیں ہرامتحان کے لئے پہلے سے نصاب کاتعین اورممتحن کو پرچے کی اطلاع کے وقت نصاب بھی تحریری دیناضروری ہے۔

2۔ممتحن کے لئے ضروری ہے کہ کتاب کے علاوہ طالب علم کوتشویش میں ڈالنے والی کوئی خارجی بات سوال میں نہ لائے۔

3۔سوال     میں طلباء کی ذہنی اور تعلیمی استعداد کا خیال انتہائی ضروری ہے، بہت آسان یا بہت مشکل سوال سے طالب علم کی استعدادکااندازہ نہیں لگایاجاسکتا ۔

4۔سوالات آسان سادہ اور ذہانت سے پرہوںتاکہ طلباء ان سے مختلف مفہوم اور مطلب نہ نکال سکیں بلکہ جو بات پوچھی گئی ہو وہی سمجھ میں آئے۔

5۔تحریری پرچہ میں دو سوالات میں عبارت ،اس پر اعراب، ترجمہ اور تشریح پوچھی جاتی ہے اور تیسرا سوال معروضی ہوتا جس کے کم ازکم دس اجزاء ہوتےہیں ۔

6۔ممتحن کو اپنے پرچے کے دن امتحان ہال میں حاضری اول سے آخر تک ضروری ہے ، الا یہ کہ کسی شرعی عذر کی بناء پر جامعہ کی طرف سے اجازت دی جائے۔

7۔پرچہ کے چیک کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی سستی اور غفلت نہیں کرنی چاہئے، سوالیہ پرچہ میں غلطیوں پر سرخ قسم کی لکیر کھینچنی چاہئے۔

8۔پرچہ صاف،خوشخط اورکالی سیاہی سے بڑے سائزکے صفحہ پرصرف ایک طرف لکھاجائے۔

9۔عبارت کی صورت میں کتاب کاصفحہ نمبر لکھناضروری ہے۔

10۔وفاقی درجات میں تین اور غیر وفاقی درجات میں دو کتابوں کا تقریری امتحان اورباقی کتابوں کا تحریری امتحان ہوتا ہے۔

11 ۔امتحانی پرچہ دس دن قبل جمع کرائے جاتے ہیں،تحریری پرچہ پر تعلیمی کمیٹی نظر ثانی کرکے مناسب تبدیلیوںکے بعد کمپوز کروادیتی ہے جس پر نظر ثالث خود ممتحن ڈالتا ہے۔

12 ۔ پرچہ کے دن سے اندرون ۴ یوم پرچہ کے نمبرات جمع کرانےضروری ہیںاورنتائج امتحان سے ایک ہفتہ بعد جاری کئے جاتے ہیں۔

13 ۔ممتحن کو تقریری امتحان میں خاص ورقہ اور تحریری امتحان میں جوابی کاپیوں کے ساتھ ایک ورقہ دیا جاتا ہے جس میں نتیجہ لکھا جاتا ہے۔

معمولات یومیہ برائے طالب علم 

فجر کے بعد 

ختم یٰسین ، ناشتہ، اسباق  12:00 بجے تک، کھانا ، قیلولہ

ظہر کے بعد

فضائل اعمال کی تعلیم ، اسباق، اذان عصر سے نماز تک حفاظ کےدور کی ترتیب

عصر کے بعد

ختم خواجگان ، کھیل مغرب کی اذان سے دس منٹ قبل تک 

مغرب کے بعد

اسباق، اذان عشاء سے نماز تک حفاظ کےدور کی ترتیب 

عشاء کے بعد

اصلاحی بیان ، کھانا، اسباق ساڑھے دس تک